خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 502 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 502

خطابات شوری جلد اوّل ۵۰۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء نے ایسے کیس دیکھے ہیں کہ لڑکی والے آئے۔لڑکی کی عمر ۲۶/۲۵ سال کی ہے اور بالکل جاہل گاؤں کی رہنے والی ہے لیکن ۱۳ ۱۴ سال کے لڑکے کے ساتھ جو تعلیم یافتہ اور اعلیٰ حالت میں پرورش یافتہ ہے، اُس کے متعلق کہا گیا کہ اُس سے شادی کرا دی جائے۔پھر ایسے کیس بھی دیکھے گئے ہیں کہ ۱۵،۱۰ روپیہ ماہوار آمدنی رکھنے والے نے ایک نہایت آسودہ حال گھرانہ کی لڑکی کے متعلق کہا کہ اُس سے شادی کرا دی جائے۔یہ مرض دونوں لڑکے اور لڑکی والوں میں پایا جاتا ہے۔دونوں کو ایسی باتوں سے بچنا چاہئے اور کفو کا لحاظ رکھنا چاہئے۔“ رائے شماری کے بعد فرمایا:- میں کثرت آراء کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں اور ۱۹۳۴ ء تک ایسی شادیاں کرنے سے روکتا ہوں۔اس کے بعد بھی اگر اس ممانعت کی ضرورت ہو تو امور عامہ اس کو پھر پیش کرے۔“ ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا چاہئے کہ جس امر کی ممانعت کی گئی ہے اس کے علاوہ کوئی اور بات بھی تو نہیں جس کی وجہ سے لڑکیوں کے رشتوں میں دھنیں پیش آتی ہیں۔مردم شماری کر کے اندازہ لگایا جائے احمدیوں میں لڑکیاں زیادہ پیدا ہوتی ہیں یا لڑ کے۔اس سے بھی رشتوں کی مشکلات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔“ يوم التبليغ لتبليغ نظارت دعوۃ و تبلیغ کی تجویز بابت یوم التبلیغ پر چند ممبران کے اظہار رائے کے بعد حضور نے فرمایا : - اس وقت احباب کے سامنے دو سوال میں ایک یہ کہ یوم التبلیغ جلسوں کی صورت میں منایا جاوے۔اس کے متعلق دلائل بھی احباب نے سن لئے ہیں اور دوسرا سوال یہ ہے کہ انفرادی طور پر تبلیغ کی جاوے۔اس کے دلائل بھی سن لئے ہیں۔جو دوست پہلی صورت کی تائید میں ہیں وہ مہربانی کر کے کھڑے ہو جا ئیں۔“ آٹھ رائیں۔جو دوست دوسری تجویز کی تائید میں ہیں۔وہ کھڑے ہو جائیں۔“ دوصد تہتر را ئیں۔