خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 501
خطابات شوری جلد اوّل ۵۰۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء بُری بن سکتی ہے۔بعض لوگ اس طبعی خواہش کو نقص کی حد تک پہنچا دیتے ہیں مگر یہ بھی درست ہے کہ یہ نقص کسی خاص قوم سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ عام ہے۔لغو شرائط سے اجتناب کیا جائے میں نے خطبات کے ذریعہ اپنی جماعت کو اس طرف توجہ دلائی ہے اور اب بھی دلاتا ہوں کہ لغو شرائط سے اجتناب کرنا چاہئے مگر ان صاحب نے جو یہ بات بیان کی ہے کہ کہا جاتا ہے تعلیم اتنی ہو اور اسے بھی ان شرائط میں سے قرار دیا ہے جو نہ ہونی چاہئیں میں اسے قابل اعتراض نہیں سمجھتا کیونکہ اگر لڑ کی تعلیم یافتہ ہو تو غیر تعلیم یافتہ لڑکے سے یا کم تعلیم یافتہ لڑکے سے شادی کرنے پر فساد ہی پیدا ہو گا۔ایک حد تک گھر میں حکومت کرنے کا مرد کو حق ہے مگر یہ اُسی صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہے جب کہ مرد عورت کی نسبت تعلیم میں زیادہ ہو۔اگر لڑکی ”مولوی کا امتحان پاس کئے ہوئے ہے یا انٹرنس پاس ہے اور اس کے لئے غیر تعلیم یافتہ درخواست کرتا ہے تو ان کا نباہ خوشگوار نہ ہو گا کیونکہ لڑ کی علم میں زیادہ ہونے کی وجہ سے عقلمند ہو اس اپنے آپ کو عقل میں بھی زیادہ سمجھے گی گو یہ ضروری نہیں کہ تعلیم یافتہ زیادہ صورت میں ضرور فتنہ کا دروازہ کھل جائے گا۔اس لحاظ سے تعلیم کے متعلق شرط پیش کرنا مصلحت وقت کے لحاظ سے مناسب ہے۔رشتوں میں مساوات کے غلط معنی میں نے دیکھا ہے جہاں ان شرطوں سے بعض لوگ ناجائز فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرتے ہیں وہاں جماعت میں مساوات کے یہ معنی سمجھے جاتے ہیں کہ خواہ کس درجہ کی لڑکی ہو اُس کا ایک معمولی درجہ کے لڑکے سے رشتہ ہو جانا چاہئے۔کئی لوگ میرے پاس آ کر کہتے ہیں فلاں لڑکی سے رشتہ کرا دیا جائے۔جب ایسے شخص کو سمجھایا جائے کہ لڑکی زیادہ تعلیم یافتہ اور اعلیٰ گھرانے کی ہے تو وہ کہتا ہے احمدیوں میں مساوات ہونی چاہئے مگر مساوات کے یہ معنی نہیں ہیں کہ لڑکی اور لڑکے کے حالات میں خواہ کتنا تفاوت ہو اس کی پرواہ نہ کی جائے۔بلکہ مساوات کے یہ معنی ہیں کہ ان میں ایسی نسبت ہو کہ وہ صحیح طور پر گزارہ کرسکیں۔پس جہاں لڑکی والوں کے لئے ضروری ہے کہ غیر مناسب شرائط پیش نہ کریں وہاں لڑکے والوں کو بھی چاہئے کہ اگر لڑکی سے لڑکے کو مناسبت نہیں تو اس کے لئے درخواست نہ کریں۔میں