خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 473

خطابات شوری جلد اوّل ۴۷۳ ت ۱۹۳۱ء یہاں جمع ہوئے وہ اپنے علاقوں میں جا کر تحریک کریں گے کہ بجٹ کو پورا کیا جائے۔جو لوگ کمزور ہیں اور باقاعدہ چندہ نہیں دیتے اُن سے باقاعدہ چندہ وصول کرنے کا انتظام کریں گے۔میں سمجھتا ہوں ہماری جماعت کے ہر فرد میں دین کے لئے مال صرف کرنے کی خواہش ہے مگر بعض کو یاد دلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔بعض بڑی جماعتیں جو پہلے بڑی بڑی رقوم دیتی تھیں اب ان کا چندہ کم ہو گیا ہے۔جس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے انتظام میں نقص ہے۔چونکہ خطرہ ہے کہ مالی لحاظ سے یہ سال بھی نازک ہے کیونکہ زمینداروں کی حالت خراب ہو گئی ہے اس لئے پورا زور لگانا چاہئے کہ سب کے سب احمدی بجٹ کے پورا کرنے میں حصہ لیں تا کہ تمام افراد پر مالی بوجھ پھیل جائے اور نادہند بھی چندہ دینے لگ جائیں۔اگر یہ نہ ہوا تو پھر چندہ خاص کی ضرورت پیش آئے گی اور اس کا زیادہ بوجھ انہی پر ڈالا جائے گا جنہوں نے عام چندہ ادا نہ کیا ہوگا۔اب تقریر کرنے کا وقت نہیں رہا مگر میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ہمارے سارے کام روحانیت پر مبنی ہیں۔جب تک ہماری جماعت کا ہر فرد یہ محسوس نہ کرتا کہ ہمارے کام قومی ، ملکی ، سیاسی نہیں بلکہ مذہبی ہیں اور ان کا سرانجام دینا عبادت ہے، اُس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی۔پھر چونکہ یہ نہایت نازک موقعہ ہے اس لئے دعائیں کی جائیں اور مسلسل کی جائیں۔اس کی اپنی اپنی جماعت میں جا کر تحریک کریں۔خدا تعالیٰ نے ہمیں نبی کا زمانہ دیا ہے اور ہمارے اندر وہ قابلیتیں رکھی ہیں جو دُنیا کے اور لوگوں میں نہیں۔اگر ہم ہ خدا تعالیٰ کے نور کو اپنے اندر آنے دیں تو موجودہ جماعت کا دسواں حصہ نہیں، پچاسواں حصہ بھی ہو تو بھی ہمیں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔مگر بعض افراد کے اخلاص کی کمی کی وجہ سے روکیں پیدا ہو رہی ہیں۔میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے اندر اخلاص پیدا کریں۔ہر مشکل اخلاص حاصل ہو جانے پر دُور ہوسکتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہر قسم کے سامان پیدا کر سکتا ہے۔پس اگر اللہ تعالیٰ پر توکل کرو تو وہ تمہاری باتوں میں، تمہارے مالوں میں، تمہاری قربانیوں میں بھی اثر پیدا کر دے گا۔ہر بات میں برکت ہوگی ، تمام برکتیں اللہ کے فضل سے ہی آیا کرتی ہیں اور تھوڑے روپیہ سے بھی بڑے بڑے کام ہو سکتے ہیں۔اور یہ