خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 472

خطابات شوری جلد اوّل ۴۷۲ ت ۱۹۳۱ء لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لے گئے جماعت میں خاص احساس ہونا چاہئے۔حضرت خلیفہ اول نے جب آپ سے بیعت لینے کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا یہاں نہیں بیعت لی جائے گی پھر لدھیانہ میں بیعت لی۔وہاں کے پیر احمد جان صاحب مرحوم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوئی سے پہلے ہی فوت ہو گئے وہ اُن لوگوں میں سے تھے جن کو خدا نے دعوئی سے پہلے ہی آپ پر ایمان لانے کی توفیق دی۔اُنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لکھا۔سب مریضوں کی ہے تمہیں پہ نظر تم مسیحا بنو خدا کے لئے اُنہوں نے اپنی وفات کے وقت اپنے سب خاندان کو جمع کیا اور کہا حضرت مرزا صاحب مسیحیت کا دعوی کریں گے تم سب ایمان لے آنا۔چنانچہ یہ سب خاندان ایمان لے آیا۔پیر منظور محمد صاحب اور پیر افتخار احمد صاحب آپ کے لڑکے ہیں۔اور حضرت خلیفہ اول کی اہلیہ ان کی لڑکی ہیں۔میرا ارادہ ہے کہ اس مقام کا خاص طور پر نقشہ بنایا جائے اور بیعت کے مقام پر ایک علیحدہ جگہ تجویز کی جائے اور نشان لگا دیا جائے اور اس موقع پر وہاں جلسہ کیا جائے۔چالیس آدمیوں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس جگہ بیعت لی تھی۔ان سب کے نام اِس جگہ لکھ دیئے جائیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی بار صحابہ سے بیعت لی۔ہمارے ہاں یہ رواج نہیں رہا۔میرا ارادہ ہے کہ جو دوست اس موقع پر وہاں جمع ہوں اُن سے پھر بیعت لی جائے۔اور اس طرح اس مقدس مقام سے برکت حاصل کی جائے۔“ اختتامی تقریر آخر میں صدر انجمن احمدیہ کا سالانہ بجٹ پیش کیا گیا جو بحث کے بعد پاس ہوا۔مجلس مشاورت کی کارروائی مکمل ہونے پر حضور نے اختتامی تقریر کرتے ہوئے فرمایا :- یہ بجٹ جسے منظور کرنے میں انہوں نے اس قدر اصرار کیا اور سب کمیٹی کی تخفیف کردہ باتوں میں سے قریباً ہر ایک کو رڈ کر دیا اس کے معنے یہ ہیں کہ احباب نے ۳۰ ہزار کی زیادہ رقم خرچ کرنے کی ذمہ داری اپنے اوپر لی ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ وہ نمائندے جو