خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 471
خطابات شوری جلد اوّل ۴۷۱ رت ۱۹۳۱ء آرگنائزیشن (ORGANIZATION) کو مذہب کا حصہ بنا دیا اور کام کرنے والوں کی اطاعت اور احترام نظام کی جان ہے۔بیرونی جماعتوں کے جن کارکنوں کے کام کو قابلِ تعریف بتایا گیا ہے اُن میں سے کلکتہ کی جماعت کے امیر حکیم ابو طاہر صاحب کا خصوصیت سے ذکر کیا گیا ہے اُنہوں نے بہت کامیابی سے کام کو نبھایا ہے اُنہوں نے اپنی سرگرمیوں اور کوششوں سے ایسے شہر میں جو تعلیم وغیرہ میں بہت بڑھا ہوا ہے، جماعت کے وقار کو قائم رکھا ہے اور باوجود اس کے کہ تھوڑی سی جماعت ہے بڑے طبقہ میں اسے مقبول بنایا ہے۔وہاں کا سیرتِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جلسہ بہترین جلسہ ہوتا ہے جس میں اعلیٰ طبقہ کے انگریز اور ہندو شامل ہوتے ہیں اور ساری دُنیا میں شہرت رکھنے والے ہر مذہب کے لوگ شریک ہوتے ہیں۔یہ محض حکیم ابوطاہر صاحب کی کوشش کا نتیجہ ہے۔مجھے جہاں لا ہور کی جماعت پر افسوس ہے وہاں حکیم ابو طاہر صاحب کی کوششوں سے دل بہت خوش ہے۔خصوصاً اس وجہ سے کہ وہ بیمار ہوتے ہوئے اس قدر کام کر رہے ہیں۔احباب ان کی صحت کے لئے دُعا کریں۔میں آئندہ کے لئے انہیں سارے بنگال کا امیر جماعت مقرر کرتا ہوں۔گو بنگال کے لئے نظارت نے رپورٹ کی ہے کہ اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے مگر بنگال ایک دفعہ بتا چکا ہے کہ وہ دوحصوں میں منقسم نہیں ہو سکتا اور میں امید کرتا ہوں کہ اب تقسیم بنگالہ کی غلطی ہم نہیں کریں گے۔“ صوبہ بنگال کا امیر دار البیعت لدھیانہ اس کے بعد دارالبیعت لدھیانہ کی مرمت وغیرہ کا معاملہ پیش کیا گیا۔اس کے لئے احباب نے موقع پر ہی رقم جمع کر دی۔اس پر حضور نے فرمایا : - اس تجویز کے متعلق احباب نے بجائے کھڑے ہو کر رائے دینے کے روپوؤں سے رائے دی ہے اس لئے میں اس کی منظوری دیتا ہوں۔بجٹ میں آمد وخرچ میں ایک ہزار روپیہ اس مد کا بڑھا دیا جائے۔میرے نزدیک یہ نہایت اہم معاملہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خصوصیت سے اس کا ذکر کیا ہے بلکہ لدھیانہ کو باب لذ قرار دیا ہے جہاں دجال کے قتل کی پیشگوئی ہے۔ایسے مقام کے لئے جہاں قادیان سے بیعت لینے کے