خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 470

خطابات شوری جلد اوّل اس کے سپر د کر دوں گا۔۴۷۰ ت ۱۹۳۱ء ناظروں کا دورہ ناظروں کے دورہ کا جب سوال پیش ہوا تھا تو میں نے کہا تھا دورہ ضروری ہے مگر چونکہ ابھی ہماری جماعت کے لوگوں کی تربیت کافی طور پر نہیں ہوئی اس لئے اگر ناظروں سے ایسا سلوک کیا گیا کہ ان کا وقار قائم نہ رہا تو مصر۔ہوگا۔چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے یہ سوال اُٹھایا تھا اور کہا تھا کہ ناظر کا عہدہ وزارت کا عہدہ ہے۔ان کا وقار قائم کرنا ضروری ہے اور زور دیا تھا کہ جماعت کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے لیکن افسوس کے ساتھ کہتا ہوں اس بارے میں لاہور کی جماعت نے بہت بُرا نمونہ دکھایا۔جب ناظر اپنے دورہ کے سلسلہ میں لاہور گیا تو لاہور کی جماعت نے اپنے نقیب کو ناظر کے لانے کے لئے سٹیشن پر بھیجا اور کوئی کارگن نہ گیا۔پھر کوئی اُسے ملنے نہ آیا اور وہ لوگوں کے گھروں پر ملنے کے لئے گیا۔اس کے متعلق جب میں نے جواب طلب کیا تو ایسا جواب دیا گیا جو غلط تھا۔امیر صاحب نے کہہ دیا کہ میں باہر گیا ہوا تھا۔میں نے ایک اور شخص کو مقرر کر دیا تھا مگر اُس نے سُستی کی لیکن دوبارہ جب ناظر وقت مقرر کر کے گیا تو پھر بھی ایسا ہی ہوا۔اور بھی ایک دو جگہ اسی طرح کیا گیا مگر جس جماعت کے امیر نے اس بات پر زور دیا تھا اُسی کی جماعت نے ناقدری بلکہ خلاف ورزی کی۔اس سے قطع نظر کرتے ہوئے دوسرے دوستوں نے جو کچھ بتایا اُس سے یہی ظاہر ہوا کہ ناظروں کے دورہ سے بہت فائدہ ہوا۔جماعتوں میں بیداری پیدا ہو گئی۔میں سمجھتا ہوں اگر یہ دورے جاری رہے تو بہت مفید نتائج نکل سکیں گے۔بہت سے کام تجارت سے تعلق رکھتے ہیں اور ہر جماعت کو کام کرنے کا ریکارڈ رکھنے کا تجربہ نہیں ہوتا۔ناظر جو مرکزی کام کرتے ہیں وہ دورے کر کے اگر جماعتوں کو ہدایات دیں تو کام بہت عمدگی سے ہوسکتا ہے۔میں اُمید کرتا ہوں آئندہ جماعتیں ناظروں کے دورہ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا ئیں گی اور ان کا احترام کر کے ثابت کریں گی کہ ہم دینی خدمت کرنے والوں کا پورا پورا احترام کرنے والے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرما دیا ہے کہ میں جسے کسی کام کے لئے مقرر کرتا ہوں اُس کی اطاعت کرنے والا میری اطاعت کرتا ہے اور اُس کی نافرمانی کرنے والا میری نافرمانی کرتا ہے۔اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے