خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 464
خطابات شوری جلد اول ۴۶۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۱ء شرعی احکام کو بجالاتے ہوئے ہم ایسا انتظام کر سکیں کہ ہم میں سے جن کو مرنے کے بعد اپنے پسماندگان کے لئے یا اپنے بڑھاپے میں اپنے لواحقین کے اخراجات کی فکر ہو اُن کے لئے کچھ نہ کچھ جمع ہو سکے اور ایسی طرز پر روپیہ جمع ہو کہ اس سکیم میں شامل ہونے والے مجبور ہوں کہ اپنا مقررہ حصہ ضرور جمع کرائیں اور اللہ تعالیٰ کا فضل ہو تو انہیں اصل سے زائد مل سکے ۔ اب میں اس کے متعلق رائے لینا چاہتا ہوں کہ ایسی سکیم جاری کی جائے یا نہ۔ بظاہر خیال ہو سکتا ہے کہ کون ایسا شخص ہوگا جو اس کا انکار کرے گا مگر یہ خیال اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ دوست عام مباحث سے واقف نہیں۔ عام بحث سے غرض یہ ہوتی ہے کہ ایسے پہلوؤں پر روشنی ڈالی جائے جو ضروری ہوں ۔ مثلاً یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایسی سکیم بن نہیں سکتی یا اقتصادی پہلو سے بھی بحث کی جاسکتی ہے کہ سود اور جوئے کی طرز کے بغیر ایسی سکیم کا کامیاب ہونا ممکن نہیں ۔ ہمیں دونوں باتوں پر غور کرنا ہے۔ آیا شریعت کے احکام کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم ایسی سکیم چلا سکتے ہیں یا نہیں؟ اور پھر اقتصادی لحاظ سے کامیاب ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ جو دوست اس بات کی تائید میں ہیں کہ اگر ممکن ہو تو ایسی سکیم جاری کی جائے وہ کھڑے ہو جا ئیں ۔“ تمام کے تمام اصحاب کھڑے ہو گئے ۔ فرمایا۔ جن اصحاب کا یہ خیال ہو کہ بظاہر امکان نہیں کہ ایسی سکیم چلا کر کامیابی حاصل ہو سکے۔ اس لئے جماعت کے روپیہ کو خطرہ میں نہ ڈالا جائے وہ کھڑے ہو جائیں ۔“ اس پر کوئی صاحب کھڑے نہ ہوئے ۔ فرمایا :- 66 میرا یہاں تک خیال ہے احباب نے اس سکیم کے متعلق متفقہ رائے دی ہے۔ معقول سے معقول سکیموں میں بھی کوئی نہ کوئی خلاف رائے دینے والا کھڑا ہو جایا کرتا ہے مگر اس سکیم کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے احباب نے متفقہ رائے دی ہے اور مجھے اس سے خوشی ہوئی ہے کیونکہ میں نے اس سکیم کے تجویز کرنے میں اپنا وقت صرف کیا ہے۔ بے شک جماعت میں ایک حصہ ایسا ہے اور ہونا چاہئے جن کی بنیاد زندگی تو کل پر ہے اور اسے یقین ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کا ایسا تعلق ہے کہ وہ ان کی اولاد کو ضائع نہ کرے گا لیکن جماعت کے سارے کے سارے لوگ اس مقام پر نہیں ہوتے خواہ وہ رسول کریم صلی اللہ