خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 465
خطابات شوری جلد اوّل ت ۱۹۳۱ء علیہ وآلہ وسلم کی جماعت کے لوگ ہوں خواہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کے لوگ اور خواہ وہ حضرت عیسی علیہ السلام کی جماعت کے۔اس لئے شریعت نے بھی مختلف حالات کے متعلق مختلف احکام بیان کئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے ایک بزرگ سے کسی نے پوچھا زکوۃ کے متعلق کیا حکم ہے؟ اُنہوں نے کہا زکوۃ کے متعلق دو حکم ہیں۔ایک تمہارے لئے اور ایک میرے لئے۔تمہارے لئے تو یہ حکم ہے کہ چالیس پر ایک روپیہ زکوۃ دو لیکن میرے لئے یہ حکم ہے چالیس پر ۴۱ روپے دوں۔اس نے کہا یہ فرق کیوں؟ فرمانے لگے مجھے خدا تعالیٰ نے تو کل کے مقام پر کھڑا کیا ہے اور تجھے تدبیر کے مقام پر۔تم اگر مال جمع کرو تو تمہارے لئے یہ حکم ہے کہ چالیس پر ایک روپیہ دو۔لیکن میں چونکہ تو کل کے مقام پر ہوں اس لئے اگر میرے پاس چالیس روپے جمع ہو جائیں تو اس لئے ۴۱ دوں کہ مجھے جمع کرنے کی اجازت نہیں ہے اور جمع کرنے پر مجھے ایک رو پیر زائد جمع شدہ سے جُرمانہ دینا چاہئے۔غرض ہماری جماعت میں دونوں گروہ ہیں تو کل والا بھی اور تدبیر والا بھی۔تدبیر والے گروہ کے لئے ضروری ہے کہ ہر جائز تدبیر سے کام لے اور اپنے لواحقین کے لئے جو انتظام ممکن ہو کرے اور تو کل والے کے لئے یہ ہے کہ وہ اپنا معاملہ خدا تعالیٰ پر چھوڑ دے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق آتا ہے آپ کوئی سرمایہ نہ رکھتے تھے۔اگر آپ کے پاس ایک درہم بھی آیا تو آپ نے محتاجوں میں تقسیم فرما دیا مگر بیویوں کے لئے سال کا غلہ مہیا کر دیتے تھے یکے میں سمجھتا ہوں اس لحاظ سے سکیم کا چلانا ضروری ہے۔اس کے علاوہ ایک اور بھی ضروری امر ہے جس کی طرف میں اس وقت اشارہ کر دینا ضروری سمجھتا ہوں تا کہ احباب کو اس کا خیال رہے۔بہت دوست قادیان میں مکان بنانا چاہتے ہیں مگر اُن کے پاس روپیہ جمع نہیں ہوتا۔وہ یا تو ساری کی ساری آمد اپنے نفس پر خرچ کر دیتے ہیں یا جو کچھ بچا سکتے ہیں اُسے دین کے لئے صرف کر دیتے ہیں۔اس کے لئے ایک دفعہ تجویز کی گئی تھی کہ ایک سوسائٹی بن جائے۔اور جس طرح کمیٹی کا طریق ہے اس طرح مہیا شدہ روپیہ جس کے نام نکلے اسے دیا جائے البتہ یہ فرق رکھا جائے کہ جتنے کسی کے حصے ہوں اتنی دفعہ اس کے نام کا قرعہ نکالا جائے۔اس کے لئے کئی دوست مل گئے تھے