خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 463

خطابات شوری جلد اوّل ۴۶۳ ت ۱۹۳۱ء دریافت کی جائے پہلے مناسب یہی ہے کہ احباب سے مشورہ لوں کہ آیا ایسی سکیم کے اجراء کی ضرورت بھی ہے یا نہیں۔اگر کثرت رائے جاری کرنے کے حق میں ہوئی اور اس کے دلائل میری سمجھ میں بھی آگئے تو پھر یہ فیصلہ کریں گے کہ کیا طریق اختیار کیا جائے۔زیادہ تر اس سکیم کے پیش کرنے کا باعث اسباب ہی ہیں۔بہت دوست پریشانی کا اظہار کرتے ہیں کہ جب وہ فوت ہو گئے تو ان کے بال بچہ کی پرورش کی کیا صورت ہوگی ؟ چونکہ عام طور پر لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ جب ان پر کوئی دباؤ نہ پڑے کچھ پس انداز نہیں کر سکتے اس لئے کمپنیوں میں لوگ روپیہ جمع کراتے ہیں کیونکہ ان میں حصہ دار بننے پر مجبوراً رقم جمع کرانی پڑتی ہے۔اگر نہ کرائیں تو پہلا جمع شدہ سرمایہ بھی ضبط ہو جاتا ہے۔ہمارے احباب بھی چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا طریق ہو کہ جو کچھ نہ کچھ جمع کرانے پر مجبور ہوں تا کہ پسماندگان کے لئے کچھ نہ کچھ جمع کر سکیں۔اس کیلئے میں نے مختلف اوقات میں مختلف کمیٹیاں مقرر کیں مگر کبھی کسی کمیٹی نے اپنی رپورٹ نہ پیش کی۔آخر ۱۹۲۸ء میں میں نے ایک ایسی سکیم تجویز کی جس پر شرعی طور پر کوئی اعتراض نہ پڑ سکتا تھا۔اس کے متعلق تجویز ہوئی کہ اسے غور کے بعد پھر پیش کیا جائے لیکن بعض غلط فہمیوں کی وجہ سے وہ سکیم غلط راہ کی طرف چلی گئی کیونکہ جو اصول میں نے تجویز کئے تھے وہ چھوڑ دیئے گئے تھے۔میں نے دوبارہ امور عامہ کے سپرد کام کیا کہ ان اصول پرسکیم تجویز کریں جو میں نے قرار دیئے تھے۔اب سوال یہ ہے کہ آیا ہماری جماعت کے لئے کسی ایسی جدو جہد کی ضرورت ہے یا نہیں یعنی ایک ایسی کمپنی ہو جس کے احباب حصہ دار ہوں۔اور اس طرح پسماندگان کے لئے رقم جمع کریں اور اگر خود زندہ رہیں تو ان کی ضرورت کے وقت رقم مل جائے۔دوسرا سوال یہ ہے کہ ایسی سکیم شرعی طور پر جائز ہو۔تیسرے یہ کہ اقتصادی طور پر مفید ہو۔اب میں پہلے اس امر کے متعلق مشورہ لینا چاہتا ہوں کہ ایسی سکیم کی ضرورت ہے یا نہیں۔اس کے متعلق جو دوست اظہار رائے کرنا چاہیں میر صاحب کو نام لکھا دیں پھر باری باری بول سکتے ہیں۔“ بعض نمائندگان کے اظہار خیال کے بعد حضور نے فرمایا:- ’اس وقت احباب کے سامنے یہ تجویز پیش ہے کہ آیا کوئی ایسی سکیم ممکن ہے کہ