خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 24

خطابات شوری جلد اوّل ۲۴ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء ا لگ رہا آپ لوگ جو نمائندے بن کر آئے ہیں آپ کا بھی اگر امتحان لوں تو اسی فیصدی ایسے ہوں گے جن کو ان کا پتہ ہی نہیں ہوگا۔تو اس صیغہ کا یہ مطلب ہے کہ کم از کم یہ حصہ دین کا ہر احمدی کو سکھا دے مگر ابھی اس صیغہ نے یہ کام شروع بھی نہیں کیا۔دوسری چیز اس سے اوپر اخلاقی تربیت تھی یہ بھی شروع نہیں ہوئی۔پھر عقائد تھے۔بیشتر حصہ لوگوں کا اس سے بھی واقف نہیں۔انہیں یہ تو پتہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے اور حضرت مرزا صاحب سچے ہیں۔آگے یہ کہ کس غرض کے لئے خدا نے حضرت مرزا صاحب کو بھیجا، یہ نہیں جانتے۔گو عقائد ضروریہ کا جاننا بھی ضروری ہے مگر تبلیغ کے رستہ میں بھی دینی روکیں نہیں جتنی تربیت کے رستہ میں ہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سچا ہونا چونکہ احمدی خود سمجھتے ہیں اس لئے دوسروں کو سمجھا سکتے ہیں لیکن اخلاق سے چونکہ خود واقف نہیں اس لئے دوسروں کو سکھلا نہیں سکتے۔اور موٹی موٹی باتیں مثلاً غیبت، بداخلاقی کیا ہوتی ہے یہ بھی نہیں جانتے۔اور مذاق اس قدر بگڑا ہوا ہے کہ اوّل تو اخلاق سکھانا ضروری ہے پھر اس پر عمل کرانا۔کہتے ہیں کوئی ہندو مسلمان ہو گیا تھا جب کبھی کوئی بات ہوتی تو رام رام کہتا۔جب پوچھا گیا تو کہنے لگا کہ رام نکلتے ہی نکلے گا۔یہی حالت ہماری جماعت کی ہے۔ابھی اخلاق کو سمجھے نہیں مگر جب سمجھا ئیں گے تو پھر بھی عمل کرتے وقت بھول جائیں گے اس لئے مشق کرانے کی ضرورت ہوگی۔میں نے ابھی تجربہ کیا ہے۔لاہور سے واپس آتے وقت میں ریل میں لیٹ گیا۔ابھی لیٹا ہی تھا کہ ایک صیغہ کے اعلیٰ رکن کی ایک ریل والے سے لڑائی شروع ہوگئی۔میں چُپ سُنتا رہا کہ دیکھوں کس طرح گفتگو ہوتی ہے۔کوئی بیس منٹ تک جھگڑا ہوتا رہا۔اس ساری لڑائی میں وہ کارکن بہت بڑی غلطی میں مبتلا اور ناحق پر تھا اور باوجود اس کے بداخلاقی سے کام لے رہا تھا۔اگر اُس وقت میرے پاس وہ معاملہ فیصلہ کے لئے آتا تو میں اُس کے خلاف فیصلہ کرتا۔تو وہ با وجود اخلاق کو جاننے کے ان کے خلاف کر رہا تھا اور عمل کے وقت پورا نہ اُتر رہا تھا۔پس اول ہمیں یہ بتانا ہے کہ اخلاق کیا ہیں؟ اور جب یہ بتا دیں تو یہ بتانا ہو گا کہ ان کے قواعد کیا ہیں؟ اور یہ بھی بتا دیں تو موقع پر استعمال کرانا ہو گا جب تک یہ نہ ہو ا خلاق کی تربیت نہیں ہو سکتی۔یہ ایک آدمی کو سکھانا بھی بڑا مشکل۔