خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 23
خطابات شوری جلد اوّل ۲۳ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء بنیادیں مضبوط کرنی ہیں۔اس سے غرض جماعت کی دینی تعلیم و تربیت ہے، علماء بنانا نہیں بلکہ ایسے مسائل سے واقف کرنا ہے کہ جن کے سوائے کوئی مسلمان مسلمان نہیں ہوسکتا۔اب کئی عورتیں آتی ہیں جو کلمہ بھی نہیں پڑھ سکتیں اور جب کلمہ نہیں پڑھ سکتیں تو نماز کس طرح پڑھ سکتی ہوں گی اور جب نماز نہیں پڑھ سکتیں تو مسلمان کس طرح ہو سکتی ہیں اور وہ غرض کس طرح قائم رہ سکتی ہے جو اس سلسلہ کی ہے۔جب کہ یہ حالت ہے نماز کوئی ٹو نہ نہیں بلکہ با ترجمہ آنی چاہئیے کیونکہ جو ترجمہ نہیں جانتا وہ سمجھ کہاں سکتا ہے اور معارف پر غور کہاں کرسکتا ہے اور جسے یہ بات حاصل نہیں وہ خدا سے تعلق کس طرح پیدا کر سکتا ہے۔اس کے بغیر تو یہ ناٹک ہے کہ تماشہ کے طور پر ادا کی جاوے۔ہم جلسے اور انجمنیں کرتے ہیں مگر کیا نبی اسی لئے آتے ہیں؟ یہ تو اور لوگ بھی کر لیتے ہیں۔ہماری غرض اُسی وقت پوری ہوسکتی ہے جب ہمارا ایک ایک مرد ایک ایک بچہ اور ایک ایک عورت اس قدر واقفیت دین سے رکھے جو مسلمان بننے کے لئے ضروری ہے۔جب تک ایسا نہ ہو تب تک ترقی نہیں ہو سکتی سوائے اس کے کہ بعض خاص آدمی اپنی ریاضت سے آگے نکل جائیں مگر جماعتیں اس لئے بنائی جاتی ہیں کہ سارے مل کر ترقی کریں۔اگر ساری جماعت ترقی نہ کرے تو پھر کیا ضرورت ہے چندہ جمع کرنے کی اور کیا ضرورت ہے کا نفرنسوں اور جلسوں کی۔تو تعلیم اور تربیت سے یہ مراد ہے کہ ہر احمدی کو ظاہری علوم کا اتنا حصہ سکھا دیا جاوے کہ اسے آئندہ ترقی کی بنیاد قرار دے سکیں۔میرے نزدیک کم از کم اسی فیصدی مگر یہ زیادہ اندازہ دل کو خوش کرنے کے لئے لگایا گیا ہے ورنہ پچانویں فیصدی ایسے ہیں کہ وہ نماز کا ترجمہ نہیں سمجھتے۔گویا دس ہزار میں سے میں ایسے ہیں جو صحیح ترجمہ جانتے ہیں اس سے زیادہ افسوس کی بات کیا ہوگی اور اگر اب توجہ نہ کی گئی تو پھر کب کریں گے۔بیشک ایک مکان بنانے کے لئے تو کوئی کہہ سکتا ہے کہ روپیہ نہیں ہے اس لئے چھت نہیں ڈالی جاسکتی۔مگر کیا یہ کہہ سکتے ہیں کہ لوگوں کو مرنے دو اُن کی حفاظت کے لئے روپیہ نہیں ہے؟ اسی طرح کیا یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر خدا سے لوگوں کا تعلق نہیں اور وہ خدا کومل نہیں سکتے تو نہ سہی پھر مل لیں گے؟ ہمارے زمانہ میں خدا تک نہیں پہنچ سکتے تو خیر اگلے زمانہ میں پہنچ جائیں گے؟ ہرگز نہیں۔اس لئے نماز، روزہ، حج، زکوۃ، صدقات ، ورثہ کے متعلق موٹے موٹے مسائل جاننا ہر فرد کے لئے ضروری ہے۔مگر ہر فرد تو