خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 25

خطابات شوری جلد اوّل ۲۵ مجلس مشاور مشاورت ۱۹۲۲ء کام ہے کجا یہ کہ جماعت کے ہر فرد کو سکھائی جاویں۔اور ابھی تک تو بڑے بڑے آدمی بھی نہیں استعمال کر سکتے کجا یہ کہ جنگلی احمدی بھی استعمال کریں۔سب کے تربیت یافتہ ہونے کا خیال اتنا بڑا ہے کہ ذہن میں لاتے ہوئے دل ڈرتا ہے کہ کیا ایسا ہو گا ؟ مگر کرنا ہے کیونکہ ہمارا فرض ہے۔پھر روحانیت کی تعلیم ہے۔اخلاقی تعلیم کے بعد اسکا درجہ شروع ہوتا ہے۔روحانی تعلیم سے باطن کی صفائی ہوتی ہے۔لوگ موٹے موٹے مسائل سے بھی واقفیت نہیں رکھتے۔مثلاً یہ کہ آداب خلیفہ اور شیخ کیا ہیں؟ خدا سے کیا تعلق ہوتا ہے؟ کس طرح محسوس کرے کہ خدا سے اسے تعلق ہو گیا ؟ یہ باتیں تعلیم و تربیت سے تعلق رکھتی ہیں۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ نہ صرف ان سے ناواقف ہیں بلکہ ان میں سوال بھی پیدا نہیں ہوتا کہ ان باتوں کے حاصل کرنے کا کوئی انتظام ہونا چاہئے۔قادیان کے سنجیدہ لوگوں سے میں نے سُنا ہے کہ ان صیغوں کی کیا ضرورت ہے؟ تو کام کرنا تو الگ رہا ان کے متعلق سوال بھی نہیں پیدا ہوتا کہ ایسا ہونا چاہئے۔اس کے لئے بڑی جدو جہد کی ضرورت ہے۔پھر ہمیں موجودہ نسل ہی کی اصلاح نہیں بلکہ یہ بھی کرنا ہے کہ آئندہ نسلوں کی حفاظت کا بھی انتظام کریں۔لیکن اگر سلسلہ کا انتظام اعلیٰ چٹان پر قائم نہیں تو اگر آج نہیں تو کل اس کی موت ہو جائے گی پھر ) ہماری جماعت کا فائدہ کیا ہوا۔جس طرح آئیڈیل مین (IDEAL MAN) کہتے ہیں اسی طرح چاہئے کہ ہم آئیڈیل مسلم IDEAL MUSLIM) بنا ئیں اور یہ کوشش کریں کہ ہر ایک احمدی ایسا ہو اور جو آئندہ پیدا ہو وہ بھی ایسا ہی ہو بلکہ یہ کہ آئندہ نسلیں بڑھ کر ہوں کیونکہ اگر اگلی نسل میں ترقی نہ ہو تو تنزل شروع ہو جاتا ہے۔اس وقت میں چند موٹی موٹی باتیں بتاتا ہوں ان کو یاد رکھو۔بعض لوگ تمسخر میں قرآن کی آیتیں پڑھ دیتے ہیں یا دوسرے کہہ دیتے ہیں یہ مولوی جو ہوئے ایسی باتیں کر دیتے ہیں۔گویا دین کی وقعت بٹھانے کی بجائے بُرا اثر ڈالا جاتا ہے اور آئندہ نسلوں پر اس کا بُرا اثر ہونا لازمی ہے۔اس قسم کی باتوں کا اس قدر اثر ہوتا ہے کہ مجھے اپنے بچے کو مارنا بھی پڑا۔ایک بھائی نے ہنسی کی دوسرے بھائی پر کہ تو مولوی ہے کہ قرآن حفظ کرتا ہے۔میں نے اُس کو مدرسہ انگریزی میں داخل کیا تھا۔اس سے پہلے اس نے کبھی یہ نہ کہا تھا اس