خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 452
خطابات شوری جلد اوّل ۴۵۲ رت ۱۹۳۱ء کہ کو آپریٹو بنک مفید بھی ہیں یا نہیں اس تجویز کو بھی میں سب کمیٹی کے سپرد کرتا ہوں۔کوشش کی جائے کہ اس کمیٹی کے ممبر علیم اقتصادیات کے بھی واقف ہوں کیونکہ قرض کے متعلق یہ بھی بحث آئے گی کہ قرض لینے کو آسان بنانا اسے بڑھاتا ہے یا کم کرتا ہے۔یعنی یہ بات قابل غور ہے کہ قرض کے حصول میں روک ڈالیں تو بڑھے گا یا کم ہو گا۔اس قسم کی باتوں پر غور کرنا چاہئیے۔آٹھویں تجویز جماعت میں تجارتی ترقی میں تعاون کرنے کے متعلق ہے۔اس پر ابھی میں بہت کچھ کہہ چکا ہوں اسے بھی سب کمیٹی کے سپر د کرتا ہوں۔نویں تجویز جو جماعت کی اقتصادی ترقی اور امداد پسماندگان کے متعلق ہے، یہ بھی سب کمیٹی کے سپرد کی جاتی ہے۔دسویں، گیارہویں، بارہویں تجاویز کو بھی سب کمیٹی کے سپرد کرتا ہوں اور بجٹ کو بھی۔“ اس کے بعد نظارت امور عامہ (۲) نظارت بیت المال (۳) نظارت تعلیم و تربیت اور (۴) مقبرہ بہشتی کی تجاویز کے متعلق سب کمیٹیاں حضور نے مقرر فرما ئیں اور اجلاس ۶ بجے شام ختم ہوا۔دوسرا دن مجلس مشاورت کے دوسرے دن ۴۔اپریل ۱۹۳۱ء کو سب کمیٹی بہشتی مقبرہ کی طرف سے یہ تجویز پیش ہوئی کہ : - اگر کوئی موصی اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا حصہ وصیت بصورت ہبہ یا نقد ادا کرنے کے بغیر فوت ہو جائے تو وہ اُس وقت تک مقبرہ بہشتی میں دفن نہ کیا جائے گا جب تک کوئی معتبر شخص اس کا حصہ وصیت ادا کرنے کا ذمہ وار نہ ہو جائے۔البتہ بعض استثنائی صورتوں میں جائز ہوگا کہ محکمہ متعلقہ موصی کے اخلاص اور اس کی اپنی زندگی میں بیشتر حصہ وصیت کی ادائیگی کو مدنظر رکھ کر اُس کی بقیہ قلیل حصہ وصیت کی نسبت اس کے