خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 451

خطابات شوری جلد اوّل ۴۵۱ رت ۱۹۳۱ء کوئی خاص بوجھ ڈالنے کے کام چلا سکے۔اب بھی بجٹ کمیٹی کوشش کرے کہ بغیر کوئی خاص بوجھ ڈالنے کے کام چل سکے۔جہاں تک اقتصادی پہلو کو مدنظر رکھا جا سکے اس کا لحاظ کیا جائے اور جہاں سمجھے کہ ضروری خرچ ہے تو اس کے متعلق یہ بات مدنظر رکھے کہ یہ رقم ایسے ذرائع سے وصول کی جائے کہ خاص چندہ کی ضرورت نہ پیش آئے۔اور یہ اسی طرح شرطی ہو جس طرح پچھلے سال تھا۔اگر اس طرح دو تین سال بجٹ چلے تو ہم انشاء اللہ قرض بھی اُتار سکیں گے اور کام بھی بہتر طور پر کرسکیں گے۔“ اب میں ان امور کو لیتا ہوں جو مجلس مشاورت میں پیش ہوں گے اور جن کے لئے سب کمیٹیوں کے تقرر کی ضرورت ہے۔مجلس مشاورت میں پیش ہونے والے امور پہلی تجویز ٹیلیون کے متعلق ہے۔یہ ایسا مسئلہ نہیں جس کے لئے سب کمیٹی کی ضرورت ہو۔اس کے متعلق ہاں یا نہ کہنا کافی ہے۔اس لئے اسے عام اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔دوسری تجویز عورتوں کے حق نمائندگی کے متعلق ہے۔اس پر بھی پہلے کافی بحث ہو چکی ہے۔اسے بھی میں سب کمیٹی کے سپرد نہیں کرنا چاہتا، اسے عام اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔تیسری تجویز وصایا کے متعلق ہے یہ ایسی ہے کہ اسے سب کمیٹی کے سپرد کرنا چاہئے۔اسی طرح چوتھی تجویز بھی جو وصایا سے ہی تعلق رکھتی ہے سب کمیٹی میں جانی چاہئے۔پانچویں تجویز اشتمال اراضی کے متعلق ہے۔اس کے متعلق میں کہہ چکا ہوں کہ یہ عارضی علاج ہے۔مگر ایجنڈا میں چونکہ لکھا ہے کہ نظارت امور عامہ سکیم پیش کرے گی اور ممکن ہے کہ وہ سکیم لمبی ہو اس لئے اسے بھی سب کمیٹی کے سپر د کرتا ہوں۔چھٹی تجویز دیہات میں پنچائتیں مقرر کرنے کے متعلق ہے۔یہ کوئی پیچیدہ سوال نہیں اس لئے سب کمیٹی کے سپرد کرنے کی ضرورت نہیں۔ساتویں تجویز بہت اہمیت رکھتی ہے جو کو آپریٹو سوسائٹیوں کے جاری کرنے کے متعلق ہے۔قطع نظر اس سے کہ اس کے متعلق مذہبی بحث بھی آ سکتی ہے اب تو یہ بحث ہو رہی ہے