خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 453

خطابات شوری جلد اوّل ۴۵۳ ورثاء کی ذاتی ضمانت قبول کر کے موصی کو مقبرہ بہشتی میں دفن کرنے کی اجازت دی جاوے۔“ ت ۱۹۳۱ء اس تجویز پرممبران مجلس کی تفصیلی بحث کے بعد حضور نے فرمایا: - اس تجویز کے متعلق بحث کافی ہو چکی ہے۔اب صرف ضرورت یہ ہے کہ رائے دریافت کی جائے۔جہاں تک میں نے سمجھا ہے بہت سی گفتگو اور تجویز میں ایسی ہیں جو آپس میں اختلاف نہیں رکھتیں۔احباب نے محض جوش تقریر میں خیال کیا کہ اختلاف ہے۔بعض دوستوں نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ وصیت کے ابتدائی مراحل پر ان مشکلات کو روکنے کی کوشش کرنی چاہئے۔مقبرہ بہشتی والے کہتے ہیں کہ کوشش کی جاتی ہے مگر باوجود ابتدائی کوششوں کے احباب کو تا ہی کر جاتے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ابتدائی کوششوں کا طریق صحیح ہے یا نہیں۔اس وقت یہاں جو موصی بیٹھے ہیں وہ اپنے معاملہ میں سمجھ سکتے ہیں کہ انجمن کے کارکن ضروری امور کے متعلق توجہ دلاتے رہتے ہیں یا نہیں۔اگر نہیں دلاتے تو وہ سمجھ سکتے ہیں کہ باوجود وصیت میں ضروی امور کے موجود ہونے کے اُن پر عمل نہیں ہوا۔اور وہ زور دے سکتے ہیں کہ جو تدابیر مقرر ہو چکی ہیں اُن پر پوری طرح عمل کیا جائے۔لیکن اگر اپنے نفوس کے متعلق سمجھتے ہیں اور اپنے تجربہ کی بناء پر کہہ سکتے ہیں کہ اس رنگ میں برتاؤ نہیں کیا گیا جیسا کہ وصیت کا منشاء ہے اور جس طرح ان کو مشکلات کا حل بتایا گیا ہے اس پر عمل کرنے کے باوجود مشکلات پیش آتی ہیں تو ماننا پڑے گا کہ اور تجاویز کی ضرورت ہے۔اس پر سوال پیدا ہو گا کہ وہ تجاویز کیسی ہیں۔میں مشکلات خلاصتاً بتا دیتا ہوں جو اصحاب اس بارے میں کوئی نئی تجاویز کے خلاف ہیں وہ غور کر لیں۔(1) جب وارثوں سے ضمانت لی جاتی ہے اور لکھا لیا جاتا ہے کہ وہ موصی کا حصہ وصیت ادا کر دیں گے مگر پھر بھی مشکلات پیش آتی ہیں تو ایک تیسرا شخص جس نے وقت ٹلانے کے لئے ضمانت نامہ لکھ دیا ہو گا اس کی وجہ سے کیوں مشکلات نہ پیش آئیں گی۔موصی کے وارث کو تو شرمندہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ تم نے جائیداد پر قبضہ کیا ہے کیوں حصہ وصیت ادا نہیں کرتے ؟ مگر دوسرے کو اس طرح نہیں کہا جا سکتا۔سیکرٹری یا پریذیڈنٹ جماعت جو میت کے ساتھ آئے گا وہ لاش کو واپس لے جانے کی بجائے کہہ دے گا کہ میں حصہ وصیت