خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 446 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 446

خطابات شوری جلد اوّل ۴۴۶ مجلس مشہ رت ۱۹۳۱ء کی بنیاد یہی پیشے ہیں۔اور وہ انہی کے ذریعہ ہم پر حکومت کر رہے ہیں۔اہلِ ہند اس لئے ذلیل ہو گئے کہ انہوں نے پیشوں کو ذلیل سمجھا اور وہ لوگ معزز بن گئے جنہوں نے موچی کا کام کیا، جولا ہے کا کام کیا، لوہار کا کام کیا۔پس اس خیال میں تبدیلی پیدا کرنی چاہئے کہ کوئی پیشہ ذلیل ہے اور مختلف پیشوں اور تجارت کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔تجارت کرنی چاہیئے تجارت کے متعلق عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ اس کے لئے سرمایہ کی ضرورت ہے اور سرمایہ ہمارے پاس نہیں اس لئے ہم تجارت نہیں کر سکتے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل فرماتے ایک ہندو نے بتایا تجارت ڈیڑھ پیسہ سے شروع کرنی چاہئے۔فرماتے ایک شخص کو دیکھا جو لکھ پتی تھا مگر اس کا بیٹا پکوڑوں کی دوکان کرتا تھا۔پوچھا یہ کیا تو کہنے گا اگر ابھی اسے سرمایہ دے دیا جائے تو ضائع کر دے گا۔اب اتنے کام سے ہی اسے تجربہ حاصل کرنا چاہئے ، یہ اسی سے اپنی روٹی چلاتا ہے۔غیرممالک میں جانا پھر غیر ممالک میں جانا بھی ترقی کا ایک ذریعہ ہے۔ہمارے ملک کے لوگ عام طور پر اپنے ملک میں ہی پڑے رہنے کے عادی ہیں اس وجہ سے ترقی سے بھی محروم ہیں۔امریکہ، یورپ، آسٹریلیا وغیرہ کے لوگ دُور دراز ملکوں میں جاتے ہیں اور قسمت آزمائی کرتے ہیں۔امریکہ، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے لوگ یہاں آتے ہیں لیکن یہاں کے لوگ یہ کہتے ہیں کہ اپنے ملک سے باہر نہ جائیں خواہ کھو کے ہی مریں۔قرآن میں بار بار کہا گیا ہے کہ دُنیا میں پھرو۔پس جنھیں اپنے ملک میں ترقی کی صورت نہ نظر آئے انہیں دیگر ممالک میں جانا چاہئے۔اس طرح بہت سے لوگ ترقی کر سکتے ہیں۔ہمارے ایک جالندھر کے دوست آسٹریلیا میں پھیری کے لئے جاتے ہیں۔وہ بتاتے ہیں کہ کم از کم پندرہ روپیہ روزانہ کی آمد ہوتی ہے۔وہ وہاں سے کما کر آ جاتے اور پھر گھر میں رہتے ہیں۔پس ہماری جماعت کے لوگوں کو باہر بھی نکلنا چاہئے ، یہ مالی اور دماغی ترقی کا ذریعہ ہے۔با ہمی تعاون پھر ایک نہایت ضروری بات باہمی تعاون ہے۔ہم نے دیکھا ہے کانگرس والوں نے باہمی تعاون سے کس طرح گورنمنٹ کو نقصان پہنچایا۔اسی طرح فائدہ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔مگر ہماری جماعت نے ابھی تک اس طرف توجہ نہیں