خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 447
خطابات شوری جلد اوّل ۴۴۷ رت ۱۹۳۱ء کی۔ہمارے سامنے کئی سکیمیں آتی ہیں۔کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں مگر کوئی کام نہیں ہوتا۔میرے سامنے ایک سکیم ہے جس کا میں نے سالانہ جلسہ پر بھی ذکر کیا تھا اور وہ تاجروں اور صناعوں کے متعلق ہے یعنی یہ کہ جو چیز ہماری جماعت کے لوگ بنا ئیں اُس کے متعلق ان احمدی تاجروں کو جو وہ چیز فروخت کرتے ہوں لکھا جائے کہ ان سے خریدو اور اس طرح با ہمی تعاون کرو۔اس وقت میرے سامنے ایک عزیز بیٹھا ہے اس کے والد صاحب کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔چودھری نصر اللہ خان صاحب مرحوم یہاں ایک دفعہ آئے اور حضرت خلیفہ اوّل کے زمانے میں اُنہوں نے یہاں کپڑے بنوائے۔میں نے اُن سے پوچھا آپ یہاں کیوں کپڑے بنواتے ہیں؟ کہنے لگے میں ایک سال کے لئے کپڑے یہاں سے ہی بنوایا کرتا ہوں تا کہ یہاں کے کپڑا فروخت کرنے والوں اور درزیوں کو کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچ جائے۔یہ ان کے دل میں آپ ہی آپ تحریک ہوئی اور میرے نزدیک ہر احمدی میں یہی روح ہونی چاہئے کہ وہ اپنے بھائیوں کو فائدہ پہنچائے۔اگر ہماری جماعت کے لوگ اس روح کے ماتحت کام کریں تو ہماری جماعت کے تاجر اور صناع اس قدر مضبوط ہو سکتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کو بھی اپنی طرف کھینچ سکیں۔اگر جماعت کے ایسے لوگوں کی فہرستیں بن جائیں جن سے معلوم ہو کہ کون سی چیز کہاں کے احمدی مہیا کر سکتے ہیں تو پھر جسے اس کی ضرورت ہو اُن سے منگا سکتے ہیں اور اِس طرح بہت فائدہ ہوسکتا ہے اور بہت سے لوگوں کے لئے کام نکل سکتا ہے اور ان کا گزارہ بہت اچھا چل سکتا ہے۔مشترکہ کام جاری کئے جائیں ایک صورت اقتصادی ترقی کی یہ ہے کہ جماعت کی طرف سے اشترا کی کام جاری کئے جائیں۔ہم نے اسی غرض سے ایک سٹور جاری کیا تھا مگر اس سے ایسا دھکا لگا کہ پھر ہوش نہ آئی۔حالانکہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ نئے سرے سے اور کام نہ کرتے اور نقصان سے بے دل ہو کر بیٹھ رہتے۔انگلستان والوں نے جب ہندوستان میں تجارت شروع کی تو کئی سال تک بڑا نقصان اُٹھاتے رہے مگر انہوں نے کام نہ چھوڑا اور آخر ہندوستان لے ہی لیا۔پس کوئی وجہ نہیں کہ ایک دفعہ نقصان ہونے کی وجہ سے ہم کوشش جاری نہ رکھیں۔سٹور کے متعلق یہ غلطی