خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 445
خطابات شوری جلد اوّل ۴۴۵ ت ۱۹۳۱ء کم از کم بیس روپے ماہوار کماتا ہے مگر ایک زمیندار جو اپنی بڑی شان سمجھتا ہے ۲۲ ،۲۳ سو روپیہ کا سرمایہ زمین اور اس کے متعلقات کی شکل میں خرچ کرتا ہے، بیوی بچوں کو اپنی محنت مشقت میں شریک رکھتا ہے، جو دن رات کام کرتا ہے سوا آٹھ روپے ماہوار کماتا ہے۔پس زمیندارہ کرنے والے لوگ قطعاً ترقی نہیں کر سکتے اور جب تک مسلمان اسے چھوڑ کر دوسرے کا موں کو اختیار نہ کریں گے ترقی نہیں کر سکیں گے۔پھر آج جس کے پاس آٹھ دس گھماؤں زمین ہے اس کی اولاد میں تقسیم ہو کر وہ اور بھی تھوڑی حصہ میں آتی ہے۔اس طرح کہاں ترقی ہو سکتی ہے۔اگر ہماری جماعت کے لوگ بھی اسی حالت میں رہے تو جماعت ترقی نہیں کر سکے گی اس لئے ضروری ہے کہ ایسے ذرائع اختیار کئے جائیں جن گزارہ چل سکے۔زمین اپنے میں سے کسی ایک کے سپرد کر دی جائے اور باقی کے حصہ دار دوسرے کاموں کی طرف توجہ کریں۔اشتمال اراضی بعض جگہ گورنمنٹ اشتمال اراضی کر رہی ہے۔یہ مفید چیز ہے مگر ہم میں چونکہ تر کے ہمیشہ تقسیم ہوتے رہتے رہیں گے اس لئے اشتمال اراضی کا کوئی مستقل فائدہ نہیں ہو سکتا تاہم جس حد تک فائدہ اُٹھایا جا سکے اُٹھانا چاہئے۔اصل کوشش یہ ہونی چاہئے کہ لوگوں کے دلوں سے یہ خیال نکال دیا جائے کہ زمیندارہ سب سے معزز پیشہ ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو فرماتے ہیں جس کے گھر میں ہل آ گیا وہ ذلیل ہو گیا۔شے جب تک زمیندار یہ بات سمجھ نہ لیں ترقی نہیں کر سکتے۔مختلف پیشے سیکھے جائیں ہر جگہ کے لوگوں کو اندازہ لگانا چاہئے کہ ان کے پاس گزارہ کے لئے کافی زمین ہے یا نہیں۔اگر کافی نہ ہو تو اپنی اولاد میں سے کسی ایک دو کے سپرد زمین کر کے باقیوں کو مختلف کام سکھلائیں۔کسی کو لو ہار، کسی کو جولاہا، کسی کو صناع، کسی کو تاجر بنا ئیں۔اس طرح ترقی کرسکیں گے۔کوئی پیشہ ذلیل نہیں سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ ہندوستان میں پیشوں کو ذلیل سمجھا جاتا ہے اور زمیندارہ کو معزز پیشہ قرار دیا جاتا ہے۔مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ایک لوہار، ایک ترکھان، ایک جولاہا جو کام کرتا ہے اس میں ذلت کیا ہے۔ان کاموں کو ذلیل قرار دینے والے کبھی غور نہیں کرتے کہ انگریزوں کی ساری ترقی