خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 444
خطابات شوری جلد اوّل ۴۴۴ رت ۱۹۳۱ء نقصان دہ ہیں۔ہم کپڑوں پر خرچ کریں مگر اپنی حیثیت کے مطابق ، زیور ڈالیں مگر اپنی مالی حالت کے لحاظ سے۔پس اس قسم کی فضول باتیں ترک کر دینی چاہئیں۔لڑکے والوں کو یا لڑکے کو اس بات کے لئے مجبور کرنا کہ اتنا زیور اور اتنا کپڑا لا ؤ، نہایت معیوب بات ہے۔اسی طرح ولیمہ پر دیکھا گیا ہے کہ یوں تو بعض لوگ معمولی چندہ دینے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتے لیکن ولیمہ پر ۸۰ - ۱۸۰ اور ۱۰۰۔۱۰۰ روپیہ خرچ کر دیتے ہیں حالانکہ ان کے تعلقات لوگوں سے اتنے وسیع نہیں ہوتے کہ بڑی تعداد میں لوگوں کو بلا ئیں۔ان کے مدنظر صرف نمائش ہوتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے ولیمہ کرو خواہ ایک بکری ہی ذبح کرو گے جسے ہمت نہیں وہ اس قسم کے زیادہ اخراجات کیوں برداشت کرے۔اس قسم کی باتوں میں بھی جماعت کا روپیہ ضائع ہوتا ہے۔اسی روپیہ کو اقتصادی اصلاح میں لگانا چاہئے۔زمیندار لوگ کیا کریں ایک اور بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے اندازہ لگایا ہے موجودہ حالات میں زمیندار لوگ زمینوں کی آمدنی پر گزارہ نہیں کر سکتے۔عام طور پر ایک زمیندار کے پاس تین چار پانچ گھماؤں زمین ہوتی ہے بڑے زمینداروں کے پاس سو دو سو تین سو چار سو گھماؤں ہو سکتی ہے مگر ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں اور اوسط زیادہ سے زیادہ دس گھماؤں کی ہے۔اس میں سارا سال محنت کر کے اگر ہر سال گیہوں ہی بوئی جائے اور فرض کر لیا جائے کہ فی گھماؤں دس من اوسط ہے جو زیادہ سے زیادہ اندازہ ہے تو سو من غلہ حاصل ہو گا اور آجکل کے ریٹ کے مطابق اس کی زیادہ سے زیادہ قیمت دو سو روپیہ ہو گی۔اس میں زمیندار کے کمین بھی شامل ہوں گے۔گورنمنٹ کا ٹیکس بھی ادا کرنا ہوگا۔بیلوں کا خرچ بھی برداشت کرنا ہوگا۔یہ سب اخراجات لگا کر زیادہ سے زیادہ سو روپیہ بچے گا۔گویا آٹھ سوا آٹھ روپے ماہوار آمدنی ہو گی۔اس سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔جس ملک کے لوگوں کی آمدنی کی یہ اوسط ہو وہ کس طرح ترقی کر سکتا ہے۔ایک زمیندار جو سارا سال خود محنت کرتا ہے، اُس کی بیوی بچے اُس کی محنت میں مدد کرتے ہیں اور پھر اُسے سوا آٹھ روپے کی آمدنی ہوتی ہے لیکن اس کے مقابلہ میں ایک معمولی مزدور جس کی بیوی بچے آرام سے گھر میں رہتے ہیں جو کوئی سرمایہ خرچ نہیں کرتا ، وہ