خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 443

خطابات شوری جلد اوّل ۴۴۳ ت ۱۹۳۱ء بھی کوشش کرنی چاہئے۔اقتصادی اور مالی کمزوری کی وجہ یہ ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ مال کی حقیقی قیمت نہیں لگاتے۔ہماری جماعت کا یہ کریکٹر بن چکا ہے کہ دین کو دُنیا پر مقدم کرنا ہے اور دُنیا حقیر چیز ہے۔وہ چونکہ دین کے لئے قربانیاں کرتے رہتے ہیں اس وجہ سے روپیہ کی قیمت ان کی نظر سے گر گئی ہے اور اس وجہ سے نقصان اُٹھا رہے ہیں۔ہماری جماعت کے لوگ اِن حالات میں دین میں ترقی نہیں کر سکتے اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہماری جماعت میں ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ بعض لوگ دوسروں سے روپیہ لیتے ہیں اور پھر ادا نہیں کر سکتے اور کام کاج سے بھی جاتے ہیں۔ایک دوست نے بتایا ایک صاحب اس لئے چھپے ہوئے تھے کہ ایک پٹھان اُن سے روپیہ کا مطالبہ کرتا تھا۔وہ رات کو گھر آتے اور دن کو کہیں چلے جاتے۔آخر انہیں مجبور کر کے جب حساب کرایا گیا تو بجائے اس کے کہ انہیں کچھ دینا آتا اُن کا روپیہ پٹھان کے ذمہ نکلا۔تو جماعت کے لوگوں کی مالی حالت اس وجہ سے بہت رگری ہوئی ہے کہ وہ مال کی قیمت حقیقی طور پر نہیں لگاتے۔بعض تو خود تنگی اُٹھاتے ہیں اور دینی کاموں کے لئے مالی قربانی کرتے ہیں لیکن بعض ایسے بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہمیں احمدی ہونے سے کیا فائدہ ہوا ، ہم مالی مشکلات میں پھنسے ہوئے ہیں۔فضول اخراجات سے بچو اس کے متعلق ایک بات جس کا مجلس شوری سے تعلق نہیں بلکہ نصیحت ہے اسے پیش کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ فضول اخراجات سے بچنے کی کوشش کی جائے۔باہر کی جماعتوں کے متعلق تو میں نہیں کہہ سکتا مگر قادیان کے لوگوں کے متعلق کہتا ہوں کہ ان کی بعض باتوں میں اسراف پایا جاتا ہے۔بے شک شادی بیاہ کے موقع پر اگر توفیق ہو تو خرچ کرنا چاہئے اور لڑکی کو زیور کپڑے دینے چاہئیں مگر یہاں یہ حالت ہے کہ جو لوگ نکاح کے لئے مجھے رقعہ لکھتے ہیں وہ یہ درج کرتے ہیں کہ اتنا مہر، اتنا زیور اور اتنا کپڑا ہوگا۔اگر ہمارے پاس روپیہ ہے تو ہم خواہ کروڑ روپیہ کا زیور ڈال دیں اور قیمتی سے قیمتی کپڑے بنا دیں تو اسلام منع نہیں کرتا لیکن لڑکے والوں۔یہ کہیں کہ اتنا زیور اور اتنا کپڑا لا ؤ تب نکاح ہوگا یہ کمینگی ہے۔یہ سوال کرنے کی شکل ہے اور اس طرح ہم خود ایک عزیز رشتہ دار کو مصیبت میں ڈالتے ہیں اور مقروض بناتے ہیں۔اس کے اعزاز کو صدمہ پہنچاتے اور اسے بنٹے کے ماتحت کر دیتے ہیں۔اس قسم کی باتیں