خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 438

خطابات شوری جلد اوّل ۴۳۸ رت ۱۹۳۱ء نہیں آتے۔ایک ایک ضلع میں کئی کئی سو قصے ہوتے ہیں لیکن ہمارے مبلغوں کی تعداد اتنی تھوڑی ہے کہ وہ ہر جگہ نہیں جاسکتے۔پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اس تعداد کو بڑھا ئیں اور اس حد تک بڑھا ئیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ان مشکلات کو حل کر لیں جو در پیش ہیں۔انہی دنوں ایک بنگالی دوست مجھے ملنے آئے۔ان کے دل میں سب سے بڑا احساس یہی تھا کہ ہمارے علاقہ میں تبلیغ کا کام نہیں ہو رہا۔اگر چہ اس علاقہ میں ایک مبلغ کام کر رہا ہے اور ایک اور تیار کیا جا رہا ہے مگر وہ بار بار یہی کہتے تھے کہ ایک دو مبلغ وہاں کیا کر سکتے ہیں۔یہی حال دوسرے علاقوں کا ہے۔پنجاب میں ہماری جماعت کی وجہ سے مسلمانوں کو بہت تقویت حاصل ہو رہی ہے مگر بنگال میں ایسی کوئی صورت نہیں کیونکہ وہاں ہماری جماعت کمزور ہے۔غرض مبلغوں کو بڑھانا نہایت ضروری ہے کیونکہ نہایت نازک وقت آ گیا ہے۔میں نے دیکھا ہے وہی لوگ جو یہ کہتے تھے کہ تبلیغی لحاظ سے مسلمانوں میں کوشش کرنے کی کیا ضرورت ہے، وہ اب یہ کہتے ہیں کہ کیا مسلمانوں کے بچنے کی کوئی صورت ہے؟ میں انہیں کہتا ہوں انہیں مایوس نہیں ہونا چاہئے۔وہ خدا جس نے جماعت احمدیہ کو ہندوستان میں قائم کیا ہے اُس نے مسلمانوں کی حفاظت کے سامان بھی کئے ہیں اور جس خدا نے یہاں ہماری جماعت قائم کی ہے، وہ گاندھی جی کی تحریک سے مسلمانوں کو نہیں مٹنے دے گا۔گاندھی جی کے جنگی ارادے وہ گاندھی جی جولڑائی کا نام تک نہ لیتے تھے اور عدم تشدد پر جن کا سارا زور تھا ، اب انہوں نے بھی کہا ہے کہ ہندوستان میں خانہ جنگی ہوگی مگر تھوڑے دنوں کی کیونکہ مسلمان تھوڑے ہیں اور جلد ختم ہو جائیں گے۔گویا اُنہوں نے بھی اعلان کر دیا ہے کہ ہندوستان میں خانہ جنگی ہوگی مگر کہتے ہیں اس کا ہم آپ ہی تصفیہ کر لیں گے انگریزوں کی ضرورت نہیں۔جب ہندوستان کے لئے ایسے خطرات جماعت احمدیہ کی تعداد مردم شماری میں پیدا ہور ہے ہوں تو جماعت کو تبلیغی اور مالی پہلو سے قربانی کرنے کی بے حدضرورت ہے۔اگر پہلے دوستوں نے سُستی سے کام لیا ہے تو اب ہر ایک احمدی اپنا فرض سمجھے کہ کچھ نہ کچھ ریز رو فنڈ کے لئے ضرور جمع کرے۔