خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 437

خطابات شوری جلد اوّل ۴۳۷ رت ۱۹۳۱ء لکھا ہے کہ اُس کے پاس ایسی ڈگریاں ہیں جو عام طور پر لوگوں کے پاس نہیں ہوتیں مگر با وجود اس کے کوئی ملازمت نہیں ملتی۔وجہ یہ کہ مسلمانوں کے لئے ہر جگہ ملازمتوں کے دروازے اس طرح بند کر دیئے گئے ہیں کہ وہ اعلیٰ سے اعلیٰ قابلیت رکھتے ہوئے بھی پیچھے دھکیلے جا رہے ہیں۔اس شخص کی مدد کی جاسکتی ہے مگر اس کے لئے خرچ کرنا پڑے گا انہی دنوں دہلی میں مسلمانوں کی ایک کا نفرنس ہو رہی ہے جس میں شمولیت کے لئے میں نے مولوی عبد الرحیم صاحب درد کو بھیجا ہے۔انہیں میں نے کہا ہے کہ لوگوں سے مل کر اس کے لئے بھی کوشش کریں۔مسلمان تو مسلمان ہم تو ہندوؤں کو بھی مناسب امداد دینے کے لئے تیار رہتے ہیں۔پچھلے سال ہم نے ایک ہندو کے لئے بھی کوشش کی۔گو اس میں کامیابی نہ ہوئی مگر اس نے لکھا مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ جس کام میں ہندوؤں نے میری مدد نہ کی اُس میں آپ نے کی اور ہمدردی کا پورا حق ادا کیا۔۔غرض مسلم تو الگ رہے غیر مسلموں میں بھی یہ خیال پیدا ہو رہا ہے کہ بنی نوع انسان کی سچی ہمدردی کرنے والے یہی لوگ ہیں۔مگر اس کے لئے اخراجات کرنے پڑتے ہیں جو ہم اپنی محدود آمدنی سے نہیں کر سکتے۔اس کے لئے ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ ایسے لوگ جن کے دوسرے لوگوں سے تعلقات ہوں خواہ ملازم ہوں یا غیر ملا زم ، وہ کوشش کریں اور اس فنڈ کے لئے چندہ جمع کریں۔ہماری بیرونی جماعتوں کے کئی سیکرٹری اور پریذیڈنٹ ایسے ہیں جو سرکاری ملازم ہیں اور وہ اپنی جماعت کے لوگوں سے چندہ وصول کرتے ہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔اسی طرح اگر ملازمت پیشہ لوگ دوسروں سے چندہ لیں تو گورنمنٹ کیا کر سکتی ہے۔پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ ریز روفنڈ کومضبوط کرنے کی کوشش کریں تا کہ یہ کام ہم کر سکیں۔سبلغین کی کمی دوسری بات میں نے مبلغین کے متعلق کہی تھی۔مگر ہم مالی وقتوں کی وجہ سے دس کی بجائے صرف تین مبلغ ہر سال بڑھانے کی تجویز کر سکے۔اس طرح ہماری تبلیغی ضرورتیں پوری نہیں ہو سکتیں۔باوجود اس کے کہ ہم ہر سال تین مبلغوں کا اضافہ کرتے ہیں اور اتنے اتنے بڑے علاقوں کا کام ان کے سپرد کرتے ہیں کہ ان کی صحت پر کام کی زیادتی کی وجہ سے بہت بوجھ پڑ جاتا ہے مگر پھر بھی شکائتیں آتی رہتی ہیں کہ مبلغ