خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 439

خطابات شوری جلد اوّل ۴۳۹ ت ۱۹۳۱ء اب تو تعداد کے لحاظ سے بھی حال کی مردم شماری میں ہماری جماعت کی ترقی نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔جہاں جہاں صحیح اندراجات ہوئے ہیں وہاں کافی تعداد پائی گئی ہے۔خود قادیان میں ہمارا انداز ۳۶۰۰۰ نفوس کا تھا لیکن مردم شماری میں یہ تعداد ۵۲۰۰ کے قریب نکلی ہے۔گویا ۱۳۳ فیصدی ترقی ہوئی ہے۔اسی طرح باہر کی جماعتوں میں بھی حیرت انگیز نتائج رونما ہوئے ہیں۔اگر چہ افسوس ہے کہ باوجود اس کے کہ مہینہ بھر میری طرف سے الفضل میں اعلان ہوتا رہا پھر بھی دوستوں نے غفلت سے کام لیا۔چنانچہ بعض جگہ سے رپورٹ آئی ہے کہ وہاں احمدیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی مگر تھوڑی لکھی گئی ہے اور بعض جگہ احمدیوں کے ناموں کے ساتھ احمدی لکھا ہی نہیں گیا۔مگر جہاں جہاں صحیح طور پر مردم شماری ہوئی ہے وہاں کے نتائج حیرت انگیز ہیں۔روحانی طاقت غرض اتنی جماعت میں سے اگر ہر آدمی اس بات کے لئے تیار ہو جائے کہ وہ اپنے رشتہ داروں اور واقفوں سے کچھ نہ کچھ ریز روفنڈ کے لئے وصول کرے گا تو اتنی رقم جمع ہو سکتی ہے کہ اس سے مسلمانوں کی مدد کی جاسکتی ہے اور اس سے ان کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔دُنیا میں عام طور پر دلائل اتنے نہیں چلتے جتنی طاقت چلتی ہے۔خواہ وہ مالی طاقت ہو خواہ تمدنی، خواه روحانی۔بعض اوقات جسمانی طاقت بھی کام کرتی ہے مگر سب سے زیادہ روحانی طاقت چلتی ہے کیونکہ جن لوگوں کو یہ حاصل ہوتی ہے ان کے فرشتے مددگار ہوتے ہیں۔یہ طاقت ہماری جماعت کو ہی خدا تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہے اور کوئی اُسی وقت یہ طاقت حاصل کر سکتا ہے جب جماعت احمدیہ میں شامل ہو اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لائے لیکن باقی طاقتوں میں ہم دوسروں کو شامل کر سکتے ہیں اور وہ دُنیوی خطرات سے بچ سکتے ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ ہماری جماعت اس طرف توجہ کرے گی اور ریز روفنڈ کے متعلق پوری کوشش سے کام لے گی۔تبلیغ احمد : احمدیت اسی طرح تبلیغ احمدیت کی طرف خاص توجہ کرنی چاہئے تا کہ ہم ایک ایک جگہ مبلغ رکھ سکیں۔ابھی تک ہم یہ بھی نہیں کر سکے کہ جہاں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہاں ہی ایک ایک ضلع میں ایک ایک مبلغ مقرر کر سکیں تا کہ تبلیغ زیادہ زور