خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 436

خطابات شوری جلد اوّل ۴۳۶ ت ۱۹۳۱ء کے متعلق ہمت سے کام لیتے تو بہت کچھ کر سکتے تھے۔وہ لوگ جو سرکاری ملازم ہیں ان کی طرف سے یہ عذر پیش کیا گیا ہے کہ چونکہ ان کے لئے دوسروں سے چندہ لینا قانونا منع ہے اس لئے وہ ریز رو فنڈ جمع کرنے میں حصہ نہیں لے سکے۔مگر میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ انجمن حمایت اسلام کا اخبار ہر ماہ ایسے لوگوں کے چندوں کا اعلان کرتا ہے جو سرکاری ملازم ہیں اور اس انجمن کے لئے سرکاری ملازم چندے جمع کرتے ہیں۔چنانچہ انہی دنوں شیخ عبدالعزیز صاحب جو سرکاری ملازم ہیں یہاں بھی چندہ لینے کے لئے آئے۔اسی طرح میں دیکھتا ہوں غیر مبائعین کے اخبار پیغام صلح میں ایسے چندوں کا اعلان ہوتا رہتا ہے جو سرکاری ملازم جمع کر کے بھیجتے ہیں۔ایسی صورت میں میں یہ نہیں مان سکتا کہ کوئی ایسا قانون ہماری جماعت کے لوگوں کے لئے ہے جو دوسروں کے لئے نہیں ہے۔دوسروں کو تو اجازت ہے کہ سرکاری ملازم ہوتے ہوئے چندہ جمع کریں لیکن ہماری جماعت کے سرکاری ملازموں کو ممانعت ہے۔یہ صرف کام نہ کرنے والوں کی سستی اور کوتا ہی ہے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں گورنمنٹ کے قانون کا منشاء یہ ہے کہ سرکاری ملازم اپنی طرف سے کسی چندہ کی تحریک کر کے جمع نہ کریں لیکن جو کام قائم شدہ انجمنوں کی طرف سے ہو رہے ہوں اور جن میں سرکاری ملازموں کا دخل نہ ہو، اُن کے لئے چندہ جمع کرنا منع نہیں ہے۔پس میں پھر دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اگر ان میں سے ایک ہزار آدمی ایسے کھڑے ہو جائیں جو پچاس پچاس روپے ماہوار چندہ جمع کر سکیں اور ایک سو ایسے کھڑے ہو جائیں جو سو سو روپیہ ماہوار چندہ وصول کر سکیں تو ایک ماہ میں ہی ساٹھ ہزار روپیہ جمع ہو سکتا ہے اور اس سے ہم مسلمانوں کے بہت سے تمدنی ، سیاسی تعلیمی اور معاشرتی کام کر سکتے ہیں۔مسلمانوں کے مصائب اس وقت مسلمانوں پر اس قسم کی مصیبت آ رہی ہے کہ میں ان کے حالات دیکھ کر حیران رہ جاتا ہوں۔پرسوں ہی میرے پاس کو لا پورسے سے ایک خط آیا ہے جس کے لکھنے والے نے لکھا ہے کہ میں سارے ہندوستان کے مسلمانوں سے امداد کی درخواست کر چکا ہوں مگر ابھی تک مجھے نوکری نہیں ملی۔میں نے آپ کے متعلق سُنا کہ آپ مسلمانوں کی امداد کرتے ہیں ، اب میں آپ سے امداد کی درخواست کرتا ہوں۔یہ شخص ولائت کے امتحانات پاس کردہ ہے اور اُس نے