خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 435
خطابات شوری جلد اوّل ۴۳۵ رت ۱۹۳۱ء وعدہ ہے کہ جسے ملے وہ فائدہ اُٹھا سکے گا۔پس جب دنیوی عزت کے لئے لوگ اتنی قربانیاں کرتے ہیں تو وہ عظیم الشان عزت جس کے مقابلہ میں کوئی عزت اور کوئی مرتبہ نہیں اُس کے لئے تو جتنی بھی قربانیاں کی جائیں تھوڑی ہیں۔ایسی صورت میں ہماری جماعت کے جو لوگ کوشش نہیں کرتے اور سستی سے کام لیتے ہیں انہوں نے اس کام کی اہمیت کو سمجھا ہی نہیں جو خدا تعالیٰ نے ان کے سپر د کیا۔انبیاء کی جماعتوں کی عزت اگر وہ غور کریں تو انہیں معلوم ہو کہ دُنیا کے بڑے سے بڑے بادشاہ کی بھی ان کے مقابلہ میں کیا ہستی ہے۔انبیاء کی جماعتوں میں شامل ہونے والے مومن اور دین کی خدمت کرنے والے انسان، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کام کرنے والے لوگوں ، حضرت عیسی علیہ السلام کی تعلیم کی اشاعت کرنے والے افراد اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ساتھ دینے والے انسانوں کے مقابلہ میں دُنیا کے بادشاہوں کی کیا حقیقت ہے۔میرے نزدیک خدا تعالیٰ کے فرستادوں کی تعلیم پر صحیح طور سے چلنے والے اور انبیاء کو ماننے والے ایک انسان کے مقابلہ میں بڑے سے بڑے بادشاہ کی حیثیت چوہڑے جتنی بھی نہیں ہو سکتی۔سکندر جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس نے دُنیا کے بڑے حصے کو فتح کیا، اُس کی ابو ہریرۃ کے مقابلہ میں کیا ہستی تھی۔سکندر اگر مومن نہیں تھا، اس کے صحیح حالات ہمیں معلوم نہیں، ممکن ہے وہ کسی نبی کو ماننے والا ہو لیکن اگر وہ کسی نبی کو ماننے والا نہ تھا تو پھر حضرت ابو ہریرۃ کے مقابلہ میں اس کی حیثیت چوہڑے چمار جتنی بھی نہ ہوگی۔پس اتنے بڑے اعزاز کے ہوتے ہوئے اگر ہم میں سے کوئی اپنے مقصد اور مدعا کو پورا کرنے کی پوری کوشش نہیں کرتا تو معلوم ہوا اُس نے اپنے درجہ اور اپنے اعزاز کو سمجھا ہی نہیں۔ریز روفنڈ فراہم کرنے میں سُستی میں افسوس کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہماری جماعت کے لوگوں نے ریزرو فنڈ کے لئے کوئی کوشش نہیں کی۔مسلمانوں کی سیاسی ، تمدنی اور معاشرتی اصلاح کے لئے جو کام ہمارے سپرد ہے اس کے لئے جو کچھ کرنا پڑتا ہے اس کے لئے روپیہ خرچ کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور یہ رو پیدا نہی لوگوں سے حاصل کرنا چاہئے۔اگر ہماری جماعت کے لوگ اس