خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 429
خطابات شوری جلد اوّل ۴۲۹ رت ۱۹۳۱ء تھی کہ جسے میں تسلیم کرتا ہوں۔اب امید ہے کہ وہ جلد رپورٹ پیش کر دیں گے اور اس سے معلوم ہو سکے گا کہ دفا تر نے دورانِ سال میں کیسا کام کیا۔دوسرے کمیشن دوسرے کمیشنوں میں سے ایک کی رپورٹ میرے پاس آ چکی ہے لیکن چونکہ میں اُن دنوں وائسرائے ہند کو بھجوانے کے لئے ایک کتاب لکھ رہا تھا اس لئے اس پر غور نہیں کر سکا اور مجلس مشاورت سے اس کا تعلق بھی نہیں۔وہ دفاتر کے اندرونی انتظامات کے متعلق ہے۔ایک اور کیڈرکمیٹی بنائی گئی تھی وہ رپورٹ تیار کرنے کے متعلق معذرت ظاہر کر چکی ہے۔گو اس کی معذرت ایسی نہیں جو قابل قبول ہومگر کہا گیا ہے کہ اس کمیٹی کے بعض ممبر بیمار رہے یا اور مجبوریاں پیش آئیں اس لئے کمیٹی کام نہ کر سکی۔اب کرے گی۔ایک تیسری کمیٹی محاسب اور انجمن کے تعلق کے متعلق تھی۔اس کی رپورٹ میرے پاس پہنچ گئی تھی لیکن چونکہ نامکمل تھی اس لئے میں نے اس ریمارکس کے ساتھ اسے واپس کیا ہے کہ یہ تسلی بخش نہیں ہے۔“ سلسلہ کے کسی کام میں نقص دیکھنے والے اطلاع دیں دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے پچھلے سال مجلس مشاورت کے موقع پر سوالات کرنے سے روک دیا تھا۔جس کی وجہ یہ تھی کہ بعض اصحاب سوالات کرنے میں وہ پہلو اختیار کر لیتے جو دوسری مجالس میں اختیار کیا جاتا ہے۔اس میں یا تو کچھ اعتراض کا رنگ ہوتا یا سوال کرنے سے مقصد کچھ اور ہوتا ہے اور ظاہر کچھ اور کیا جاتا۔ہم چونکہ مذہبی اور روحانی جماعت ہیں اس لئے ہمارے تمام کاموں میں روحانیت ہونی چاہئے۔اگر کسی موقع پر ہم اسے چھوڑتے ہیں تو خدا تعالیٰ کی رضا اور اُس کی محبت حاصل نہیں کر سکتے۔اس وجہ سے میں نے سوال روک دیئے تھے۔مگر اب میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ انسانی کاموں میں مختلف قسم کے نقائص پیدا ہو جاتے ہیں اور جنہیں ان نقائص کا علم ہو وہ اگر اطلاع نہ دیں تو نقص دُور نہیں کئے جا سکتے اور کام میں خرابی بڑھتی جاتی ہے۔پس میں اعلان کرتا ہوں کہ جنھیں کسی کام میں کوئی نقص نظر آئے اور کسی نقص کا علم ہو تو ایسے نقائص سال کے دوران میں اور خاص کر جب نیا کمیشن اپنا کام