خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 430

خطابات شوری جلد اوّل ۴۳۰ ت ۱۹۳۱ء شروع کرنے والا ہو مجھے اطلاع دیں تا کہ اگر میرے نزدیک ضروری ہو تو میں تحقیقات کرا سکوں۔جہاں ہمارا یہ کام نہیں کہ خواہ مخواہ سلسلہ کے کاموں میں نقائص تلاش کرتے پھر میں، وہاں یہ بھی فرض ہے کہ جو حقیقی نقائص معلوم ہوں اُن کو دُور کریں اور ہر کام میں ترقی کریں۔پس جہاں مجھے ایسے سوالات پسند نہیں جن میں کسی کی ذاتی تضحیک اور تذلیل ہو، وہاں مجھے یہ بھی پسند نہیں کہ جو نقائص ہوں انہیں دُور نہ کیا جائے۔پس میں اعلان کرتا ہوں کہ جسے سلسلہ کے کاموں کے متعلق کوئی نقص معلوم ہو وہ بجائے چھپانے کے اُس کی مجھے اطلاع دے تا کہ اگر اہم بات ہو تو تحقیقات کے لئے کمیشن کے سپرد کی جا سکے۔تیسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جیسا کہ سیکرٹری صاحب مجلس بجٹ میں اضافہ مشاورت بیان کریں گے اس سال کے بجٹ میں بعض زیادتیاں کی گئی ہیں جن کی وجہ وہ کام ہے جو سیاسی اور تمدنی طور پر کرنا پڑا۔یہ سال جہاں مسلمانوں کے لئے نہایت تکلیف دہ سال گزرا ہے وہاں اس کے متعلق یہ بھی کہہ سکتے ہیں مسلمانوں کی ترقی کا موجب بھی ہوا ہے کیونکہ کہتے ہیں جب کوئی تکلیف آتی ہے تو بیداری پیدا ہوتی ہے۔اُمید کی جاتی ہے کہ جلد ہندوستان کو قومی حکومت مل جائے گی۔اس میں مسلمانوں کا کیا حق ہونا چاہئے ؟ ان کو کیا ملنا چاہئے ؟ اس کے متعلق ہمیں کام کرنا پڑا ہے۔اس کے لئے کبھی ایک کبھی دوسیکرٹریوں کو مختلف مقامات پر بھیجنا پڑا کیونکہ وہ سیاسی اور ملکی تکالیف جو دوسرے مسلمانوں کو پہنچیں ہمیں ان سے کم نہیں پہنچیں گی بلکہ زیادہ ہی پہنچیں گی کیونکہ ہماری جماعت تبلیغی جماعت ہے اور مخالف تبلیغی جماعت کو دوسروں کی نسبت زیادہ تکلیف دیں گے اور اس کی زیادہ مخالفت کریں گے۔غرض یہ سال ہی ایسا گزرا ہے کہ اس میں کوئی ہفتہ ایسا نہیں آیا جب کسی نہ کسی اہم امر پر غور نہیں کیا گیا، بیرونی مقامات پر آدمی نہیں بھیجنے پڑے، خط و کتابت نہیں کرنی پڑی۔اس وجہ سے بہت سے اخراجات ہوئے اور غالباً اس سال بھی ہوں گے کیونکہ ابھی تک فیصلہ طلب امور کا تصفیہ نہیں ہوا۔ریز روفنڈ اور مبلغین میں اضافہ چوتھی بات یہ ہے کہ اس مجلس مشاورت میں غالباً ۱۹۲۷ء میں میں نے بیان کیا تھا کہ میں بعض آثار سے دیکھ رہا ہوں کہ ایسا تغیر ہونے والا ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کی ہستی