خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 428
خطابات شوری جلد اوّل ۴۲۸ رت ۱۹۳۱ء حاصل کریں بلکہ اس لئے کہ ساری دُنیا کو فائدہ پہنچائیں کیونکہ کوئی نبی کی جماعت ایسی نہیں ہوسکتی جس کے کسی کام کی غرض محض اپنی ذات کو فائدہ پہنچانا ہو بلکہ اس کی ہر کوشش اور ہر کام کی غرض یہ ہوتی ہے کہ دوسروں کو فائدہ پہنچائے ، دوسروں کی مشکلات کو دور کرے اور دوسروں کی بہتری اور بھلائی مدنظر رکھے۔خدا تعالیٰ مسلمانوں کے متعلق فرماتا ہے كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وتُؤْمِنُونَ باللوے کہ تم دوسروں کے فائدہ کے لئے پیدا کئے گئے ہو۔تمہارا کام یہ ہے کہ لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دو برائیوں سے روکو اور اللہ پر ایمان رکھو۔پس ہم بھی اگر نبی کی جماعت بننا چاہتے ہیں تو ہماری تمام کوششیں اور تدبیریں ایسی ہونی چاہئیں کہ ان سے سب دنیا کو فائدہ پہنچے۔قطع نظر اس سے کہ کوئی احمدی ہو یا غیر احمدی ، مسلم ہو یا غیر مسلم سب کی خدمت اور سب کی بھلائی ہمارا فرض ہے کیونکہ مومن سب دُنیا کا خدمت گزار ہوتا ہے۔ہمارے جمع ہونے کی غرض پس یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ جب دوسرے لوگ اس لئے جلسے کرتے ہیں کہ چھینا جھپٹی کر کے خود فائدہ اُٹھائیں ہم اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ دُنیا میں امن قائم کریں، راستی اور انصاف پر دنیا کو کار بند کریں۔پس ساری دُنیا ہماری مخاطب ہے اور ہم ساری دُنیا کی خدمت کرنے والے ہیں اور یہ ہم پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل اور احسان ہے۔اس کے بعد میں اب ان کمیٹیوں کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں جو گزشتہ مجلس مشاورت کے موقع پر مقرر کی گئی تھیں۔ان میں ایک تو بڑا کمیشن تھا جس کی غرض یہ تھی کہ تمام دفاتر کا معائنہ کرے اور جو ہدایات اُسے دی گئی تھیں اُن کے مطابق رپورٹ کرے۔پچھلے سال کے کمیشن کی رپورٹ مجلس مشاورت کے موقع پر ہی سنائی گئی تھی اور اس کی تجاویز کے متعلق میں نے اُسی وقت اظہارِ رائے کیا تھا لیکن اس کمیشن کی رپورٹ ایک تو اس وجہ سے کہ اسے سال کے اختتام پر کام شروع کرنے کے لئے کہا گیا تھا تا کہ پہلے کمیشن کی رپورٹ پر میں نے جو فیصلے کئے تھے اُن پر عمل کرنے کا دفاتر کو موقع مل سکے اور دوسرے اِس وجہ سے کہ کمیشن کے پریذیڈنٹ صاحب بعض مجبوریوں کی وجہ سے وقت پر معائنہ کے لئے نہ آسکے۔اس لئے اس کمیشن کی رپورٹ اس موقع پر تیار کر کے پیش نہیں کر سکے۔ان کی معذوری ایسی