خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 423

خطابات شوری جلد اول ۴۲۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء دشمن بنے خواہ دوست۔مگر حکمت عملی کو ضرور مد نظر رکھ کر کام ہونا چاہئے۔یوں اندھا دھند نہ ہو۔یوں نہ ہو جس طرح حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے ایک امیر تھا جس کا پاجامہ ٹخنے سے نیچے تھا۔ایک مولوی صاحب نے اُس کے ٹخنے پر مسواک مار کر کہا پاجامہ اس سے اوپر رکھو ور نہ یہ ٹخنہ جہنم میں ڈالا جائے گا۔اس پر امیر نے غصہ میں آ کر اسلام کے خلاف کہنا شروع کر دیا۔تو ایسی تبلیغ نہ ہونی چاہئے کہ لوگ ضد میں آ کر انکار کر دیں۔۔دعائیں کرو پھر میں دعاؤں اور تقوی وطہارت کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ہمارے سارے کام اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے ہی چل سکتے ہیں۔اپنے زور قوت سے ہمارے کام کرنے کی مثال ایسی ہی ہے جیسے چڑیا دُنیا کو اُٹھانا چاہے۔چڑیا تو پھر بھی کچھ نہ کچھ بوجھ اُٹھا سکتی ہے لیکن انسان دوسرے انسان کا دل بدلنے کے لئے کچھ بھی طاقت نہیں رکھتا۔دل کا بدلنا خدا تعالیٰ کے ہی اختیار میں ہے۔اس لئے ہمیں دعاؤں کی خاص ضرورت ہے کہ خدا تعالیٰ ہماری غفلتوں کی وجہ سے ہمیں ہدایت سے محروم نہ کر دے یا ہماری وجہ سے دوسرے کو ہدایت پانے سے محروم نہ رکھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے کے یہ معنے ہیں کہ حق اور صداقت کو مان لیا۔اگر اس صداقت نے خدا تعالیٰ کے قریب نہ کیا تو پھر وہ کس کام کی؟ ہر مومن کے دل میں تڑپ اور جلن ہونی چاہئے اور ایک آگ لگی ہونی چاہئے کہ خدا تعالیٰ کو اپنی اسی دُنیا کی زندگی میں پالے اور کبھی اُس سے مایوس نہ ہونا چاہئے۔کیا پتہ ہے کہ جس دن انسان مایوس ہو وہی دن اس کی ہدایت پانے کے لئے مقرر ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں الہاماً آپ کو بتایا گیا کہ اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي کہ خدا تعالیٰ بندہ کے گمان کے مطابق اُس سے سلوک کرتا ہے۔اگر بندہ سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس سے اچھا سلوک نہیں کرے گا تو وہ نہیں کرتا اور اگر سمجھے کہ خدا تعالیٰ اُس کی آواز سُنے گا اور اس کی تڑپ کی طرف متوجہ ہو گا تو خدا تعالیٰ اُس کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔پس مومن کو کسی صورت اور کسی حالت میں بھی مایوس نہ کبھی مایوس نہ ہونا چاہئے ہونا چاہئے بلکہ رات دن اُس کے دل میں یہ تڑپ ہونی چاہئے کہ خدا تعالیٰ سے تعلق ہو۔اگر وہ معارف ، رویا، کشوف ، نصرت الہی ، خشیت الہی سے