خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 424
خطابات شوری جلد اوّل ۴۲۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء محسوس کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ سے اُس کا تعلق بڑھ رہا ہے تو اُسے خوش ہونا چاہئے اور اگر یہ محسوس ہو کہ تعلق نہیں بڑھ رہا اور خدا تعالیٰ کو ابھی نہیں پاسکا تو یقین رکھنا چاہئے کہ آج نہیں تو کل ضرور پالوں گا۔پس تم میں سے ہر ایک دل میں خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی تڑپ ہو اور جب تک تڑپ نہ پیدا ہو اُس وقت تک یہ نہ سمجھنا کہ حقیقی احمدیت پالی ہے۔اگر اس قسم کی تڑپ پائی جائے تو ہر علاقہ میں اور ہر ملک میں ایسے ابدال پیدا ہوں گے جوخود تبلیغ کریں گے اور احمدیت پھیل جائے گی۔ہر احمد می کو ستارہ بننا چاہئے ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے میرے صحابی ستاروں کی مانند ہیں۔اے ہم میں سے بھی ہر ایک کوستارہ ہونا چاہئے۔پھر اللہ تعالیٰ اسلام کی صداقت کے دلائل الہام کے ذریعہ نازل کرتا ہے۔معارف قرآن کے متعلق چیلنج میں نے بار ہا لوگوں کو چیلنج دیا ہے کہ آئیں اور قرآن کریم کے معارف بیان کریں۔مجھے کوئی عربی کی تعلیم نہیں ہے عربی کے لئے دوسرے پختہ مولویوں کی ضرورت ہوتی ہے۔مگر کوئی مولوی ہو سب کو چیلنج ہے کہ پا لمقابل قرآن کریم کے معارف بیان کرے۔یہ اچھی قابلیت کی بناء پر نہیں بلکہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ قرآن کریم کے معارف خود نازل کرے گا اور وہ نازل کرتا ہے، بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ سجدہ کر کے اُٹھتے اٹھتے ایسی تفسیر سکھا دی گئی جو ساری عمر نہ آئی تھی۔غرض خدا تعالیٰ کی طرف سے جو علم آتا ہے وہ اُس کی محبت اور نصرت سے آتا ہے۔اسی کو حاصل کرنے کے لئے جماعت کو کوشش کرنی چاہئے۔خدا کی تائید حاصل کرنے کا طریق پس میں یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہیں اور کبھی اُس سے مایوس نہ ہوں اور نہ کبھی ہمت ہار ہیں۔اپنے دل میں کسی قسم کا شک و شبہ نہ آنے دیں۔جب ایسا اخلاص پیدا ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ کی مدد اور نصرت نازل ہوتی ہے۔تم اگر اپنے آپ کو ایسا بناؤ گے تو چند دنوں یا چند ہفتوں یا چند مہینوں یا چند سالوں میں دیکھو گے کہ خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت نمایاں رنگ میں تمہارے لئے نازل