خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 422

خطابات شوری جلد اوّل ۴۲۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء اگر ساری دنیا میں سے کوئی بھی ہمارا ساتھ نہ دے تو ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کا اظہار نہ کریں گے؟ ہمیں لوگوں کو مداہنت کے ساتھ اس مقدس کام میں شامل کرنے کی ضرورت نہیں اور میں تو کہتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہرگز پسند نہ کریں گے کہ ہم اُن کے نام اور شان کے اظہار کے لئے صداقت کے اظہار میں کمزوری دکھا ئیں۔باوجود اس کے کہ آپ سید ولد آدم اور تمام نبیوں کے سردار ہیں اور خدا تعالیٰ کے سب سے بڑے وب اور مقرب ہیں پھر بھی آپ صداقت کے خادم تھے۔صدق خدا تعالیٰ کی صفت ہے اور نبی خدا تعالیٰ کی صفات کے ماتحت کام کرتے ہیں اور کبھی پسند نہیں کرتے کہ صداقت کو قربان کیا جائے۔پس آپ لوگوں کا پہلا فرض ہے کہ اپنے آپ کو صداقت پر قائم کریں۔اگر کسی کی ہدایت تمہاری صداقت کی قربانی چاہتی ہے تو ایسے شخص کی کوئی پرواہ نہ کرو۔ہمیں کسی کی خوشامد کر کے یا کمزوری دکھا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے جلسوں میں شامل نہیں کرنا چاہئے اور کبھی تبلیغ احمدیت کو نہیں چھوڑنا چاہئے۔ہاں ساتھ ہی میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ان جلسوں کو ہم اپنی تبلیغ کا جلسہ نہیں بنانا چاہتے کیونکہ یہ دھوکا ہو گا کہ ہم جلسے منعقد تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت بیان کرنے کے لئے کریں لیکن ان میں اپنے عقائد کی تبلیغ کریں۔اس سال سیرت کے جلسے پھر ہوں گے کیونکہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان چھوڑ نہیں سکتے۔اگر چہ بعض مسلمان کہلانے والے ہمارے جلسوں کی مخالفت کریں لیکن ہندو، سکھ ، عیسائی اور دیگر مذاہب کے لوگ ہمارے جلسوں میں شریک ہوں گے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ معقولیت ہمارے ہی اندر ہے لیکن اگر یہ لوگ بھی نہ آئیں تو ہم خود جمع ہوں گے اور خود ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی محبت کا اظہار کریں گے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بیان کر کے اپنے ایمان کو تازہ کریں گے کیونکہ یہی وہ طریق ہے جس سے خدا تعالیٰ حاصل ہوسکتا ہے۔خد تعالیٰ فرماتا ہے۔قل إن كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ ، پس اگر کوئی بھی شامل نہ ہو تو بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اپنے قلوب میں زیادہ کرنے کے لئے اور خدا تعالیٰ کے محبوب بننے کے لئے اس تحریک کو دلیری اور جرات سے جاری رکھو خواہ کوئی