خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 420
خطابات شوری جلد اول ۴۲۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء لیا کروں گا ۔ اس طرح عورتوں مردوں کے جمع ہونے کا جھگڑا بھی پیدا نہ ہوگا اور مجھے بھی پتہ لگ جائے گا کہ عورتیں مشورہ دینے میں کہاں تک مفید ثابت ہو سکتی ہیں ۔ ان کی رائیں فیصلہ کرتے وقت مجلس میں سُنا دی جائیں گی ۔ یہ عارضی طور پر ان کے حق میں فیصلہ کر دیتا ہوں، باقی گفتگو اگلے سال کر لی جائے گی ۔ پاس شده تجاویز کا ذکر میں فیصلہ کر دیا ہوں ان کی طرف دوستوں کو توجہ لاتا ہوں چکا کہ وہ اپنی اپنی جگہ جا کر زیادہ ہمت اور تندہی سے کام کریں ۔ احباب کو معلوم ہو چکا ہے کہ با وجود اس قربانی اور ایثار کے جو اس وقت تک ہم کر چکے ہیں ہمارے دینم دشمن کم نہیں ہوئے بلکہ اور زیادہ ہو گئے ہیں اور ان کے دلوں میں ہمارے متعلق پہلے سے بھی زیادہ کینہ اور عداوت ہے۔ جب ہم بہت کمزور تھے اُس وقت تو یہ لوگ سمجھتے تھے کہ اب مرے کہ اب مرے ، ان کی طرف زیادہ توجہ کی ضرورت نہیں مگر اب انہیں یقین ہو گیا ہے کہ یہ تو دیتے نظر نہیں آتے اور روز بروز آگے قدم بڑھا رہے ہیں۔ اس وجہ سے ہمارے خلاف ان کی دشمنی بڑھ رہی ہے اور وہ زیادہ عداوت کا اظہار کر رہے ہیں ۔ اس صورت میں ہماری جماعت کو پہلے سے زیادہ ہوشیار ہونا چاہئے اور زیادہ تندہی سے کام کرنا چاہئے ۔ جماعت کو منظم کیا جائے اس وقت میں جماعت کے نمائندوں کو رخصت کرنے سے پہلے اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ہر جگہ اپنی جماعت کو منظم کریں ، اپنی مالی حالت کو درست کریں ، پھر کیا بلحاظ اعمال اور کیا بلحاظ اخلاق دینی حالت کو مضبوط بنائیں اور دوسروں کے لئے نمونہ ثابت ہوں ۔ احباب نے مشورہ دیا تھا کہ جہاں تلوار رکھنے کی ا اجازت ہے وہاں اسلحہ رکھے جاویں کے احباب تلوار رکھیں۔ میں اس طرف توجہ دلاتا ہوں اور اور کہتا ہوں جو سامان بہادری اور جرات پیدا کرنے والے میسر آسکتے ہیں وہ ضرور مہیا کئے جائیں ۔ جن احباب کو بندوق رکھنے کی اجازت مل سکے وہ بندوق رکھیں ۔ جہاں جہاں تلوار رکھنے کی اجازت ہے وہاں تلوار رکھی جائے اور جہاں یہ اجازت نہ ہو وہاں سوٹا رکھا جائے۔ بہت لوگ ہیں جو باوجود بار بار کہنے کے سوٹا نہیں رکھتے ۔ بہت ہیں جو تلوار رکھ سکتے ہیں مگر نہیں