خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 419

خطابات شوری جلد اوّل ۴۱۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء وہاں مدر سے قائم کر رہے ہیں۔اس علاقہ کو ہم نے کام کے لئے اس لئے پچتا ہے کہ اسلامی آبادی کی کثرت ہو۔میں چاہتا ہوں کہ ریز روفنڈ کے متعلق دوست ایک رقم اپنے ذمہ لیں اور ہر سال ماہوار چندہ کے طور پر اپنے پاس سے نہیں بلکہ اپنے غیر احمدی دوستوں سے وصول کر کے دیں۔بعض دوست دوسروں سے چندہ وصول کرنے کی محنت سے بچنے کے لئے اپنے پاس سے روپیہ بھیج دیتے ہیں مگر یہ تو ایسا ہی ہے جیسے ایک جیب سے نکال کر دوسری میں ڈال دیا گیا۔چاہئے کہ ریز روفنڈ دوسروں سے وصول کیا جائے۔مجلس مشاورت کے نمائندوں کی فہرستیں موجود ہیں، میں دفتر کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ خطوط کے ذریعہ انہیں متوجہ کریں کہ وہ کچھ نہ کچھ ریز روفنڈ کی رقم اپنے ذمہ لیں اور اس فنڈ کو مضبوط کریں۔“ اختتامی تقریر مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء کی کارروائی مکمل ہونے پر حضور نے احباب سے الوداعی خطاب کرتے ہوئے فرمایا : - عورتوں کا حق نمائندگی اب کی دفعہ بعض اہم معاملات پر زیادہ وقت صرف ہو گیا ہے، اس لئے بعض اہم امور رہ گئے ہیں۔ان میں سے ایک خاص معاملہ ایسا تھا جس کے لئے ہمارے سلسلہ کی عورتیں بہت بیتاب تھیں اور وہ عورتوں کے حق نمائندگی کا سوال ہے۔اس وقت اتنا وقت گزر چکا ہے کہ اگر ہم مجلس مشاورت کا اجلاس ختم نہ کریں گے تو نہ تو نمازیں پڑھ سکیں گے اور نہ ہی جانے والے احباب کھانا کھا کر گاڑی پر پہنچ سکیں گے اس لئے اجلاس جاری نہیں رکھا جا سکتا۔اس دفعہ بجٹ ایسے مفید طریق سے طے ہوا ہے کہ اگر اس پر عمل کیا جائے تو بہت عمدہ کام ہو سکتا ہے۔اب میں دوسری تجاویز کو آئندہ کے لئے ملتوی کرتا ہوں لیکن عورتوں کی حق نمائندگی کے متعلق یہ عارضی فیصلہ کرتا ہوں کہ جہاں جہاں لجنہ اماء اللہ قائم ہیں وہ اپنی لجنہ رجسٹر ڈ کرالیں یعنی میرے دفتر سے اپنی لجنہ کی منظوری حاصل کر لیں۔پھر ان کو جنہیں میری اجازت سے منظور کیا جائے گا مجلس مشاورت کا ایجنڈا بھیج دیا جایا کرے گا۔وہ رائے لکھ کر پرائیویٹ سیکرٹری کے پاس بھیج دیں۔میں جب ان امور کا فیصلہ کرنے لگوں گا تو اُن کی آراء کو بھی مدنظر رکھ