خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 421
خطابات شوری جلد اوّل ۴۲۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء رکھتے۔بہت ہیں جو بندوق رکھ سکتے ہیں مگر نہیں رکھتے۔بندوق رکھنے کے لئے ضروری نہیں کہ شکار ہی کے لئے جائیں۔میرے پاس بندوق ہے جو یونہی پڑی رہتی ہے۔دراصل ہتھیار کا پاس ہونا ضروری ہوتا ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے خُذُوا حِذْرَكُمْ کے ہتھیار اپنے پاس رکھو۔دیکھو سکھ ہتھیار رکھنے کے لئے کس قدر اصرار کرتے ہیں اور ہم جنہیں ہمارا مذہب حکم دیتا ہے کہ ہتھیار رکھو ہم کیوں نہ رکھیں۔مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خاص طور پر ہدایت کی تھی کہ گھر سے باہر نکلنے کے وقت لاٹھی رکھا کرو۔مذہب میں بھی یہی پسندیدہ بات ہے۔اس قسم کی سب چیزیں چستی، چالا کی اور بہادری پر دلالت کرتی ہیں۔ان کی طرف ہمارے دوستوں کو توجہ کرنی چاہئے۔پھر تبلیغ پر بہت زور دینا چاہئے۔میں نے جمعہ کے تبلیغ کی طرف توجہ کی جائے ہوتا ہے خطبہ میں بھی احباب کو اس طرف توجہ دلائی تھی مگر احباب کے جانے سے پیشتر پھر اس کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔جماعت احمدیہ کو خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں اپنے ظہور اور اپنے کام کے لئے چن لیا ہے۔اگر ہم خدا تعالیٰ کا کام پوری کوشش اور سعی سے نہیں کرتے تو اُن انعامات کے مستحق نہیں بنتے جو خدا تعالیٰ اپنے خاص بندوں پر نازل کرتا ہے۔بے شک خدا تعالیٰ کے وعدے ہیں مگر وہ بندوں کی کوشش سے تعلق رکھتے ہیں۔دیکھو اُحد کی جنگ میں صحابہ نے غلطی کی تو خدا تعالیٰ نے ان کی فتح کو شکست سے بدل دیا۔گو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس شکست کو بھی فتح بنا دیا مگر آفت اور مصیبت ضرور نازل ہوئی۔پس جماعت کے دوستوں کو خصوصیت سے تبلیغ کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور اس بات کی قطعا پر واہ نہ کرنی چاہئے کہ اگر ہم تبلیغ کریں گے تو لوگ ناراض ہو جائیں گے۔سیرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جلسے بہت احباب نے بتایا کہ سیرتِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جلسوں سے یہ خیال پیدا ہوا کہ لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنی چاہئے اور کوئی ایسی بات نہ کرنی چاہئے جسے لوگ پسند نہ کریں مگر یہ نہایت ناقص اور نقصان رساں خیال ہے۔کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کا اظہار مداہنت سے تعلق رکھتا ہے؟ کیا