خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 371
خطابات شوری جلد اوّل ۳۷۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء سکتا کہ نبی یا خلیفہ کے سامنے تجاویز پیش کرنے کا حق دوسروں کے لئے رکھا گیا ہے۔کوئی ایسی مثال نہیں مل سکتی کہ کسی نے اپنی طرف سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تجویز پیش کی ہو اور اُسے اپنا حق سمجھتا ہو۔میں نے تجاویز پیش کرنے کا جو طریق رکھا تھا وہ اس خیال سے رکھا تھا کہ تجاویز میرے پاس آئیں گی اور میں ان میں سے جو مفید سمجھوں گا وہ لے لوں گا مگر اب صورت یہ ہو گئی ہے کہ جس کی تجویز نہ لی جائے وہ سمجھتا ہے اُس کا حق مارا گیا۔فیصلہ اس وجہ سے میں فیصلہ کرتا ہوں کہ آئندہ مجلس شوری میں تجویز پیش کرنے کی کسی کو اجازت نہ ہوگی۔ہاں میرے پاس ہر احمدی اپنی تجاویز بھیج سکتا ہے اور میں ایسے دوستوں کا ممنون ہوں گا اور ان کی بھیجی ہوئی تجاویز سے فائدہ اُٹھاؤں گا لیکن اگر کوئی یہ لکھے گا کہ اس کی تجاویز مجلس شوریٰ میں پیش کی جائیں تو خواہ وہ مفید ہوں تو بھی اس سال مجلس میں پیش نہیں کروں گا۔پس کسی کو اس شرط کے ساتھ کوئی تجویز نہ بھیجنی چاہئے کہ اسے مجلس شوری میں پیش کیا جائے۔یہ فیصلہ کرنا میرا کام ہوگا، میں اگر ضرورت سمجھوں گا تو مشورہ کے لئے شوریٰ میں پیش کر دوں گا اور اگر نہ سمجھوں گا تو نہیں پیش کروں گا اور خود اس سے جو فائدہ اُٹھا سکوں گا اُٹھاؤں گا۔پھر ضروری نہیں کہ مجلس شوری کے موقع پر ہی تجاویز بھیجی جائیں سارے سال میں جس وقت کوئی چاہے تجاویز بھیج سکتا ہے۔میرے نزدیک اگر اُسی سال اُن پر غور کرنا ضروری ہوا تو اسی سال مجلس شوری میں پیش کر دوں گا اور آئندہ سال ضروری ہوا تو اس کے لئے نوٹ کرلوں گا۔پس یہ بات بخوبی یاد رکھنی چاہئے کہ مجلس میں کوئی تجویز پیش کرنے کا حق محض خلیفہ کو ہے اور کسی کو نہیں اس لئے تمام تجاویز میرے پاس آنی چاہئیں نہ کہ مجلس میں پیش کرنے کے لئے بھیجنی چاہئیں۔مستریوں کے فتنہ کے متعلق کیا کرنا چاہئے؟ دو باتیں اور میں جن کے متعلق میں احباب سے پرائیوٹ مشورہ لوں گا ، وہ ایجنڈا میں نہیں ہیں۔ایک تو یہ کہ موجودہ فتنہ کے متعلق ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟ اور دوسرے یہ کہ جو لوگ منافق ثابت ہوں، ان کے متعلق کیا طریق عمل اختیار کرنا چاہئے؟