خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 372

خطابات شوری جلد اوّل ۳۷۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء ایسے لوگوں کے متعلق میں نے ایک کمیشن بٹھایا ہے جو محنت سے کام کر رہا ہے لیکن پیشتر اس کے کہ اس کے متعلق کوئی قدم اُٹھا ئیں میں چاہتا ہوں کہ احباب سے اس کے متعلق مشورہ کرلوں اور چونکہ یہ پرائیویٹ مشورہ ہو گا اِس لئے اُس وقت وزیٹرز کو اُٹھا دیا جائے گا۔منافقوں سے کیا سلوک کیا جائے؟ پس ایک تو یہ غور کرنا ہے کہ ا فتنہ کے مقابلہ کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے اور دوسرے یہ کہ جولوگ منافق ثابت ہوں ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ؟ میں غور کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہماری ایک طے شدہ پالیسی ہونی چاہئے جس کے مطابق ہم ہر معاملہ میں عمل کر سکیں۔بغیر طے شدہ پالیسی کے کسی سے کوئی سلوک کیا جاتا ہے اور کسی سے کوئی ، اس لئے شکایت پیدا ہوتی ہے۔کمیشن کی رپورٹ کے متعلق اب میں کمیشن کی رپورٹ کو لیتا ہوں۔کمیشن تو کئی بار مقرر کئے گئے مگر یہ پہلا کمیشن ہے جس نے اپنے کام کے لئے وقت دیا، محنت کی اور رپورٹ پیش کی ہے اور یہ پہلی رپورٹ ہے جو اس قدر محنت اور کوشش سے لکھی گئی۔کمیشن کا قابل تعریف کام ایک واقعہ جس کے متعلق مجھے ابھی ابھی اطلاع پہنچی ہے اگر وہ نہ ہوا ہوتا تو میں اس کمیشن کی بہت تعریف کرتا کیونکہ کمیشن کے ممبروں نے ہمارے لئے کام کیا۔ان کے مشاغل ، ان کی مصروفیتیں ، ان کی ضرورتیں ویسی ہی ہیں جیسی دوسروں کی مگر پہلے کمیشنوں نے کام نہ کیا اور اس کمیشن نے کام کیا۔اس قسم کا کام نہ کرنے والوں کی ایک مثال وہ کمیٹی ہے جو امداد باہمی کے متعلق تجویز کی گئی ہے مگر اس نے کوئی کام نہیں کیا۔اس قسم کی کمیٹیوں نے بتا دیا کہ جن احباب کو ان میں کام کرنے کے لئے مقرر کیا جاتا ہے وہ اپنے اوقات کی قربانی کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے یا اتنی قربانی کے لئے تیار نہیں ہوتے جتنی ضروری ہوتی ہے مگر اس کمیشن نے وقت صرف کیا اور کافی وقت صرف کیا۔ممبر صاحبان دو دفعہ اس کام کے لئے قادیان آئے، لمبی لمبی شہادتیں لیں۔شاید ۱۲ ۱۳ سو صفحات شہادتوں وغیرہ کے ہوں گے۔پھر کمیشن نے جور پورٹ تیار کی ہے وہ بھی کافی بڑی ہے۔