خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 360
خطابات شوری جلد اوّل ۳۶۰ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مشورہ دیتی تھیں مگر اب وہ مشورہ دینے کی اہلیت نہیں رکھتیں۔حالانکہ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ نے عورتوں کو تباہ کر رکھا تھا اسلام نے آکر ان کی قابلیتوں کو ترقی دی۔عورتوں کی مجبوریاں نَاقِصَاتُ الْعَقْل اور نَاقِصَاتُ الدّین کو بھی عورتوں کے خلاف پیش کیا گیا ہے مگر اس کا لحاظ نہیں رکھا گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے آدھا دین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سیکھو۔نَاقِصَاتُ الْعَقْلِ وَالدِّينِ کا یہ مطلب نہیں کہ عورتوں کے دماغ کسی اہم امر کے متعلق سوچنے اور رائے دینے کی قابلیت نہیں رکھتے بلکہ یہ ہے کہ بعض علمی کام بعض دنوں میں ان سے چھوٹ جاتے ہیں۔اگر ناقص العقل اور ناقص الدین کی وجہ سے عورتیں رائے دینے سے محروم کی جاسکتی ہیں تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ خاص خاص قابلیتوں والے مردوں کو ہی رائے دینے کا حق ہوسکتا ہے ورنہ نہیں۔عورتوں کی شہادت شہادت کے متعلق جو آیت ہے اُسے بہت کھینچا گیا ہے اور ضرورت سے زیادہ کھینچا گیا ہے اور اس طرح لطیفہ بنا دیا گیا ہے ور نہ بات یہ ہے کہ شہادت دینا ایک بوجھ ہے۔شاہد کو عدالت میں جانا ہوتا ہے اس لئے کہا گیا ہے کہ جہاں تک ہو سکے عورتوں کو شہادت میں نہ لیا جائے اور اگر مجبوراً لیا جائے تو ایک مرد کی بجائے دو عورتوں کو لیا جائے کیونکہ عورتیں اپنے کاموں میں اتنی مشغول رہتی ہیں کہ بات عموماً بھول جاتی ہیں۔چونکہ شہادت میں حافظہ کا تعلق ہے اس لئے شہادت میں ان کو نہ لینا چاہئے سوائے خاص مجبوری کے۔دوسرے بتایا کہ عورتوں کا کام گھر کا ہے انہیں عدالتوں میں نہ کھینچو۔اس لحاظ سے نہ یہ آیت عورتوں کے رائے دینے کے حق کے خلاف ہے اور نہ موافق۔عقل کیا کہتی ہے عقلاً دیکھنا یہ چاہئے کہ صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ عورتوں کو رائے دینے کا حق نہیں۔ہر شخص پوچھے گا کیوں حق نہیں؟ آدھی دُنیا کو رائے دینے سے محروم کر دینا کوئی یونہی نہیں مان لے گا اس کے لئے دلیل ہونی چاہئے۔کیا یہی دلیل دی جائے گی کہ عورتوں میں مشورہ دینے کی قابلیت نہیں؟ یا یہ کہ عورتوں کا مردوں کی