خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 359

خطابات شوری جلد اوّل ۳۵۹ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء متعلق پوچھ لیا جاتا۔اگر کوئی امر اس سے بھی زیادہ اہم ہوتا تو اعلان کر دیا جاتا کہ لوگ مسجد میں جمع ہو جائیں اور وہاں جمع ہو جاتے۔خلفاء کے زمانہ میں بھی اسی طرح ہوتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طریق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ طریق تھا کہ آپ مسجد میں بات شروع کر دیتے۔لوگ جُوں جوں اس کے متعلق بولتے جاتے اُن کی جو بات آپ کو پسند ہوتی وہ قبول کر لیتے۔یا چند دوستوں کو بیٹ الفکر میں بلا لیتے اور بعد میں آپ نے انجمن مقرر کر دی۔موجودہ طریق اب ایک اور طریق جاری کیا گیا ہے کہ باہر سے بھی دوستوں کو بلایا جاتا ہے۔اس پر اگر کوئی کہے کہ یہاں قادیان والوں سے ہی مشورہ لینا چاہئے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں رہنے والوں سے ہی لیا کرتے تھے تو کوئی یہ بات ماننے کے لئے تیار نہ ہو گا۔پس مناسب یہی ہے کہ کسی مسئلہ پر غور کرتے وقت شریعت کی طرف دیکھیں۔اگر وہاں نص نہ ملے تو پھر جو استدلال کریں اسے اجتہاد اور خیال کہیں۔اگر وہ صحیح ہوگا تو قابل عمل ہوگا ورنہ نہیں۔شریعت کیا کہتی ہے بعض نے کہا ہے کہ ایسے امور کے متعلق بحث کرنے والے شریعت میں کیوں پڑتے ہیں، شریعت کو علیحدہ رہنے دینا چاہئے۔میں کہتا ہوں کہ جب ہم کسی مسئلہ پر غور کرتے ہیں تو کس طرح پتہ لگے کہ شریعت نے اس کے متعلق کیا حکم دیا ہے۔ممکن ہے اس بارے میں شریعت نے کوئی حکم دیا ہو، ہم اس کی طرف توجہ نہ کریں۔اس لئے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ ہر امر پر غور کرتے وقت قرآن اور حدیث کی طرف جائے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریروں کو پیش نظر رکھے اور یہ معلوم کرے کہ ان میں کیا فیصلہ کیا ہے۔اگر ان میں کوئی صاف اور واضح فیصلہ نہ ملے تو عقل کی طرف جائے۔غرض کسی امر کے متعلق فیصلہ کرنے کے وقت شریعت کی طرف جانا ضروری ہے مگر ہر بات کو نص نہیں کہا جاسکتا۔کہا گیا ہے کہ چونکہ عورتوں میں قابلیت نہیں ہے اس لئے رائے دینے کا حق نہیں دینا چاہئے۔گویا مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانے نے تو قابل عورتیں پیدا کیں لیکن اسلام نے عورتوں کو نا قابل بنا دیا۔جاہلیت کے زمانہ میں پرورش پانے والی عورتیں تو