خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 361

خطابات شوری جلد اوّل ۳۶۱ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء مجالس میں آنا جائز نہیں؟ یا یہ کہ عورتوں کو اپنی آواز مردوں کو سُنا نا پسندیدہ بات نہیں ؟ مگر ہم دیکھتے ہیں شریعت ان تینوں باتوں کو رڈ کرتی ہے۔عورتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں آتیں اور باتیں کرتیں تھیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کبھی منع نہ کیا۔یہاں تک بھی آتا ہے کہ ایک عورت آئی اور اس نے آ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا میں اپنا نفس آپ کے لئے ہبہ کرتی ہوں۔ایک صحابی نے کہا اگر حضور پسند فرماویں تو کسی اور سے شادی کر دیں اور کھڑا ہو گیا کہ مجھ سے نکاح کر دیا جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا تمہارے پاس کچھ ہے؟ اس نے کہا میرے پاس تو کچھ نہیں۔آپ نے فرمایا تمہیں قرآن کی جو آیتیں یاد ہیں وہی اسے یاد کرا دینا تو عورتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں آتی تھیں یہ ثابت ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ عورتوں سے مشورہ لینا چاہئے یا نہیں۔یہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ثابت ہے۔چاہے علیحدہ طور پر مشورہ لیا، الگ لیا لیکن بہر حال مشورہ لیا۔تیسری دلیل مردوں کو آواز نہ سُنانے کے متعلق ہے۔مگر ثابت ہے حضرت عائشہ تقریریں کرتیں تھیں۔صحابہ ان کے پاس جاتے اور مشورہ لیتے تھے۔پھر ان کا درس دینا ثابت ہے۔اب کون سی چیز باقی رہ گئی جس کی وجہ سے عورتوں کو رائے دینے سے روکا جائے۔کیا وہ یہ نہ کہیں گی کہ جب قرآن اور حدیث نہیں روکتے تو کیا وجہ ہے کہ تم روکتے ہو اور کیوں ہم سے مشورہ نہیں لیا جاتا جب کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشورہ لیا چاہے ایک سے ہی لیا۔یہ کہنا کہ مشورہ تو لیا جا سکتا ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لیا۔عورتیں مجلس میں بھی آسکتی ہیں۔اپنی باتیں مردوں کو سُنا سکتی ہیں لیکن جب چند عورتیں نمائندہ ہو کر آئیں اور پس پردہ بیٹھیں تو ان سے مشورہ لینا نا جائز ہے۔اسے کون مان سکتا ہے۔عورتوں سے متعلق امور بعض نے کہا ہے عورتوں سے مشورہ اُن امور میں لیا جا سکتا ہے جو عورتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔مگر کیا یہ عجیب بات نہیں کہ اُم سلمہ سے جو مشورہ لیا گیا ہے وہ مردوں سے تعلق رکھتا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن سے پوچھا مرد باہر سر نہیں منڈواتے اور نہ قربانی کرتے ہیں، ان کے