خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 358
خطابات شوری جلد اوّل ۳۵۸ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء کر کے نصوص قرار دی گئی ہیں وہ دراصل نصوص نہیں ہیں۔اگر ایسی باتوں کو نصوص قرار دیا جائے تو دین میں بڑے رخنے پڑنے کا اندیشہ ہے۔یہی دیکھ لو حضرت عیسی علیہ السلام کا آسمان پر جانا نص سمجھ لیا گیا ہے حالانکہ یہ بعض لوگوں کا اجتہاد تھا مگر اُنھوں نے اسے اجتہاد تک نہ رہنے دیا بلکہ نص بنا لیا اس لئے فتنہ پڑا۔اگر اسے اجتہاد کے درجہ پر ہی رکھا جاتا اور کہا جاتا ہمارا یہ خیال ہے ، یہ نص نہیں تو جب خدا تعالیٰ کے ایک برگزیدہ نے آ کر کہا تھا کہ یہ درست نہیں تو اپنے اس خیال کی اصلاح کر لیتے مگر اب فتوے دیئے گئے کہ جو اس کا انکار کرے وہ کافر ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت عورتوں کا حق نمائندگی اسی طرح کہا گیا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت چونکہ عورتوں کو مشاورت میں حق دینے کا سوال نہیں اُٹھا تھا اس لئے انہیں موقع نہ دیا گیا۔اس کے متعلق کہا گیا ہے کہ بغیر سوال اُٹھنے کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چاہئے تھا کہ عورتوں کو یہ حق دیتے مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ جو سوال نہ اُٹھے وہ بھی ضرور بتایا جائے۔چنانچہ آتا ہے۔يَآيُّهَا الرَّسُولُ بَلغ ما أنزل إليك من ربك لے کہ اے رسول ! جو کچھ تجھ پر تیرے رب کی طرف سے اُتارا جاتا ہے وہ لوگوں کو پہنچا دے۔اس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریق یہ تھا کہ آپ مسجد میں لوگوں کو سُنا دیتے مگر وہاں مرد ہی ہوتے ، عورتیں اس طرح لزوم کے ساتھ نہ آتی تھیں جس طرح مرد آتے تھے۔پس شاورھم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت مشورہ کا طریق ہیں تاکہ ڈھنڈ میں یہ صلی بتایا گیا ہے کہ مشورہ ہونا چاہئے۔آگے یہ کہ کس طرح مشورہ ہو اسے مختلف زمانوں پر چھوڑ دیا گیا یعنی جس طرح مناسب ہو کر و۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں یہ طریق تھا کہ دس صحابہ کو مقرر کیا جاتا تھا اور اُن سے مشورہ لیا جاتا۔اگر کوئی اہم امر ہوتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں کھڑے ہو کر اس کے متعلق اعلان کر دیتے اور لوگوں سے اس کے