خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 357

خطابات شوری جلد اوّل ۳۵۷ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء میں پراگندگی پیدا کرنے والا ہو بہت خطرناک قدم ہے۔شَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ کا مطلب مثلاً یہ کہا گیا ہے کہ شاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ : میں عام حکم دیا گیا ہے۔جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ عورتوں کو بھی مشاورت میں شریک کرنا ضروری ہے۔میں کہتا ہوں اگر یہ عام حکم ہے تو پھر اس کے یہ معنے ہوں گے کہ ہر مسلمان مرد، ہر عورت اور ہر بچہ سے مشورہ لیا جائے۔ورنہ کونسا لفظ ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ فلاں مرد یا عورت سے مشورہ لو۔اگر یہ عام حکم ہے تو یہ معنے ہوں گے کہ ہر مرد، ہر عورت اور ہر بچہ سے مشورہ لولیکن کیا یہ ہوسکتا ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اسی طرح جنھوں نے یہ کہا ہے کہ شاد دهم في الأمر کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل دیکھیں گے کہ آپ نے اس کے متعلق کیا کیا اور وہ یہ ہے کہ آپ نے صرف مردوں سے مشورہ لیا اس لئے اب بھی صرف مردوں سے مشورہ لینا چاہئے۔میرے نزدیک یہ نتیجہ بھی صحیح نہیں ہے اس لئے کہ شاور ھم اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان لوگوں سے مشورہ لو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں موجود تھے اور مشورہ لینے کا ارشاد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہے مگر کوئی یہ نہ کہے گا کہ یہ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ہے۔پس اگر جن سے مشورہ لیا گیا اُن کی تخصیص کی جائے گی تو پھر مشورہ لینے والے کی بھی تخصیص کرنی پڑے گی۔ہمیں اس بارے میں جو کچھ دیکھنا چاہئے وہ یہ ہے کہ نص صریح ہمیں عورتوں سے مشورہ لینے سے روکتی ہے یا اس کا حکم دیتی ہے؟ اگر حکم دیتی ہے تو ہم کہیں گے آؤ ہمارے سر آنکھوں پر بیٹھو اور ہم ان سے ضرور مشورہ لیں گے لیکن اگر نص صریح روکتی ہے تو کہیں گے جاؤ جو چاہو کر لو ہم تمہیں مشورہ میں شریک نہیں کر سکتے لیکن اگر یہ نہیں تو پھر استنباط سے کام لیں گے اور اسے نص صریح قرار نہیں دیں گے۔یہ استنباط غلط بھی ہوسکتا ہے اور درست بھی۔یہ نص صریح نہیں کہا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو شاوِرُهُم في الآمر میں شریک نہیں کیا اور یہ نص صریح ہے کہ ان کو مشورہ میں شامل نہیں کرنا چاہئے مگر میں کہہ چکا ہوں اس بارے میں جو استدلال پیش