خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 356
خطابات شوری جلد اوّل ۳۵۶ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء گھروں میں بھی چلنے لگے اور ہمارے نصف حصہ کو یہ کہنے پر مجبور کر دے کہ ہم اس مذہب سے تعلق نہیں رکھنا چاہتیں جو عقل تو دیتا ہے لیکن رائے دینے کا حق نہیں دیتا۔آج نہیں تو کل کل نہیں تو پرسوں، پرسوں نہیں تو ترسوں یہ سوال اُٹھے گا اور اس زور سے اُٹھے گا کہ کوئی اسے دبا نہیں سکے گا۔موجودہ تغیرات کے آئندہ نتائج پس آج کے تغیرات پر نظر نہیں کرنی چاہئے بلکہ ان کے آئندہ کے اثرات کو دیکھنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب دعوی کیا تو دُنیاوی لحاظ سے کون سی دلیل تھی جس کے رُو سے کہا جا سکتا تھا کہ آپ دُنیا پر غالب آجائیں گے۔اگر چہ دُنیا پر پورا غلبہ ابھی حاصل نہیں ہو الیکن کیا دُنیا تسلیم نہیں کر رہی کہ جماعت احمد یہ ساری دُنیا میں مشہور ہو گئی ہے اور ہر جگہ پھیل رہی ہے۔اگر مذہب واقعہ میں عورتوں کو مجلس مشاورت میں شریک ہونے کا حق نہیں دیتا تو خواہ عورتیں یہ کہہ دیں کہ ہم ایسے مردوں سے شادی نہیں کریں گی جو ہمیں یہ حق نہیں دیتے تو ہم کہیں گے جب ہمارا خدا اور رسول تمہیں حق نہیں دیتا تو جاؤ ہمیں تمہاری کوئی پرواہ نہیں اور ہم تم سے شادی نہ کریں گے۔اسی طرح مائیں کہیں گی ہم بچوں کی پرورش نہیں کرتیں تو ہم کہیں گے بے شک نہ کرو اور بچوں کو مر جانے دو مگر ہم تمہیں قطعاً وہ حق نہ دیں گے جس کا اہلِ اسلام نے تمہیں حصہ دار قرار نہیں دیا لیکن اگر ایسا نہیں تو پھر ہم خدا تعالیٰ کے قول کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے فعل کی وجہ سے مسلمانوں کے نصف حصہ کو تباہ کر دیں گے۔پس اُس دن سے ہمیں ڈرنا چاہئے جب کوئی اس قسم کا قدم اُٹھا ئیں۔ہ مسئلہ شرعی نہیں میرے نزدیک اس میرے نزدیک اس گفتگو میں یہ غلطی ہوئی ہے کہ اس مسئلہ کو شرعی بتایا گیا ہے۔کیا بلحاظ اس کی مخالفت کے اور کیا بلحاظ اس کی تائید کے ہم نے دونوں طرف کے دلائل سنے ہیں اور خود بھی خدا تعالیٰ نے جو علم دیا ہے اس کے مطابق غور کیا ہے۔میں اپنے دل کے کسی گوشہ میں بھی یہ محسوس نہیں کرتا کہ شریعت نے اس بارے میں کو ئی قطعی حکم تائید کا یا مخالفت کا دیا ہو، ہاں استدلال کر کے نتائج نکال سکتے ہیں۔کوئی نقض صریح اس بارے میں نہیں ہے۔پس ایسے مسئلہ میں ایسا قدم اُٹھانا جو مسلمانوں