خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 355
خطابات شوری جلد اوّل ۳۵۵ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء اس بارے میں میری کیا رائے ہے اور میں اس معاملہ میں کس پہلو کو ترجیح دیتا ہوں۔اس کا فیصلہ کرنے سے پہلے میں بعض امور بیان کرنا چاہتا ہوں۔میرے نزدیک ہمیں عورتوں کے حق نمائندگی کا فیصلہ کرنے فیصلہ وقتی ہے یا اُصولی سے پہلے اس بات کو دیکھنا چاہئے کہ ہمارا فیصلہ وقتی ہے یا اصولی۔بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے کئے جاتے ہیں جیسا کہ شیخ یعقوب علی صاحب نے بھی ایک مثال دی ہے۔نہرو رپورٹ میں عورتوں کو ووٹ دینے کی جو تجویز کی گئی ہے اُسے ہم نہیں مانتے۔اس کے خلاف دلیل دی گئی ہے کہ مسلمان عورتیں ابھی اپنے گھروں سے باہر نکل کر ایسے کاموں میں حصہ لینے کے لئے تیار نہیں ہیں لیکن ہندو عورتیں تیار ہیں اس وجہ سے ہندومسلمانوں سے بڑھ جائیں گے۔یہ وقتی فیصلہ ہے۔پس ہوسکتا ہے کہ ایک وقت تک ہم کوئی فیصلہ دیں جو دائمی نہ ہو اور ہوسکتا ہے کہ ہم ایک بات کو دائمی طور پر پسند کریں مگر ایک وقت تک اس کا جاری کرنا پسند نہ کریں۔میں جہاں تک سمجھتا ہوں اس وقت تک مسلمان عورتوں کی زبان نہیں، وہ خاموش گھروں میں بیٹھی ہیں مگر اس میں بھی شک نہیں کہ وہ خاموش گھر اور تاریک گھر اور ان میں رہنے والا بے زبان حصہ انسانی بہت سے تخیرات میں مبتلا ہے۔ان تاریک کونوں میں علم کا ا نور پہنچ رہا ہے، ان بند گھروں کے دروازے کھل رہے ہیں ، بے زبان عورتیں زبان حاصل کر رہی ہیں اگر چہ ابھی بہت کمزور حالت ہے بہت چھوٹی سی تحریک ہے، بہت معمولی سی رو ہے مگر حالات بتاتے ہیں کہ یہ رو بڑھ کر رہے گی ، اور طاقتور ہو کر سامنے آ جائے گی۔اسلام کیا کہتا ہے پس ہمیں کوئی فیصلہ کرنے سے قبل یہ سوچ لینا چاہئے کہ اگر اسلام صریح طور پر کہتا ہے کہ عورت کو مجلس شوری میں مشورہ دینے کا حق نہیں تو ہم اس بات کے لئے آمادہ اور تیار ہیں کہ عورتوں کی ترقی کے تمام ذرائع استعمال کریں مگر انہیں مجلس میں مشورہ دینے سے رو کے رہیں گے لیکن اگر اس بارے میں شک ہو، ہمارے نفوس ہمیں علیحدگی میں کہیں کہ عورتوں کو یہ حق نہ دینے کی نص تو نہیں اور باوجود اس کے گھروں میں امن اور سوسائٹی کے تعلقات کو تباہ کرنے کے لئے تیار ہو جا ئیں تو اُس دن سے ڈرنا چاہئے جب کہ یہ رو جو دوسروں میں چل رہی ہے، ہماری جماعت اور ہمارے