خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 353

خطابات شوری جلد اوّل ۳۵۳ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء برادری کے اس حق کے متعلق کچھ کہنے کے لئے تیار ہو تو میں اُسے موقع دوں گا۔اس کا جواب آیا ہے کہ کوئی عورت کچھ کہنا نہیں چاہتی۔مگر میں زبانی طور پر پھر اس بات کو دُہرا تا ہوں تا کہ دوسرے بھی اس امر کے شاہد ہو جائیں کہ کوئی عورت بولنا چاہے تو بول سکتی ہے۔اگر ہمارے خاندان کی کوئی عورت بولنا چاہے تو میں اُسے اجازت دیتا ہوں۔اگر کسی اور خاندان کی ہو تو وہ اپنی بہتری اور بھلائی سوچ لے، شرعی طور پر مردوں کو مخاطب کر کے کچھ کہنا منع نہیں۔حضرت عائشہ کھڑی ہو کر لیکچر دیتی تھیں۔جنگ صفین اور دوسرے مواقع پر انہوں نے ایسا ہی کیا۔اس وقت ایک رنگ میں عورت کی قسمت کا فیصلہ در پیش ہے۔جو چاہیں بول سکتی ہیں۔ورنہ ان کے نہ بولنے سے دونوں نتیجے نکل سکتے ہیں۔جو مجلس مشاورت میں ان کے مشورہ دینے کے خلاف ہیں وہ کہہ سکتے ہیں جب عورتیں اپنے حق کے متعلق کچھ نہیں بول سکتیں تو اور کسی معاملہ کے متعلق کیا بولیں گی۔اور جو دوسرے ہیں وہ کہہ سکتے عورتیں مردوں کی انصاف پسندی کا امتحان لینا چاہتی ہیں اور وہ دیکھنا چاہتی ہیں کہ مرد اپنے طور پر انہیں حقوق دیتے ہیں یا نہیں۔بہر حال اب میں چار منٹ تک انتظار کروں گا کہ کوئی عورت بولتی ہے یا نہیں اور پھر اور بات شروع کروں گا۔“ اس پر ایک خاتون میمونہ بیگم صاحبہ نے حسب ذیل تقریر کی۔" سید نا وامامنا۔السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ میں صرف اتنا پوچھنا چاہتی ہوں۔جب ہمارے لئے درسگا ہیں اس لئے کھولی جا رہی ہیں کہ ہم علم حاصل کر کے تبلیغ اسلام کریں تو کیا یہ بات ہمارے لئے سد راہ نہ ہوگی کہ قوم ہمارے لئے فیصلہ کر دے کہ عورتوں کو مجلس مشاورت کی نمائندگی کا حق حاصل نہیں۔جب ہم عورتوں کے سامنے اپنے خیالات پیش کریں گی تو وہ یہ جواب دیں گی کہ تمہارے مذہب نے تو تمہارے لئے مشورہ کا حق بھی نہیں رکھا اس لئے تمہاری بات ہم نہیں سنتیں۔“ اس کے بعد خاموشی ہوگئی تو حضرت خلیفہ اسیح نے فرمایا۔میں اس خاموشی سے قیاس کرتا ہوں کہ جن صاحبہ نے تقریر شروع کی تھی وہ اور کچھ نہیں کہنا چاہتیں اور کوئی اور بھی بولنا نہیں چاہتی۔اس کے بعد میں تمام احباب سے مشورہ