خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 354

خطابات شوری جلد اوّل ۳۵۴ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء لینا چاہتا ہوں لیکن اِس سے پہلے ایک نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ مختلف تقریروں میں بعض باتیں جذبات کو اُبھارنے والی کہی گئی ہیں۔بعض لطائف بیان کئے گئے ہیں جو حقیقت پر روشنی نہیں ڈالتے۔چونکہ جذباتی کلام اور لطائف بسا اوقات انسانوں کے قلوب کو اپنے ساتھ کھینچ لے جاتے ہیں اور اُس میدان میں لا ڈالتے ہیں جو ہلاکت کا موجب ہوتا ہے اس لئے میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ رائے دیتے وقت نہ تو ان لطائف کی طرف توجہ کریں جو دونوں طرف سے بیان کئے گئے ہیں نہ ان جذبات کو اُبھارنے والی باتوں کی طرف توجہ کریں جو پیش کی گئی ہیں بلکہ یہ بات مد نظر رکھیں کہ ان کے فیصلہ کا نتیجہ انہی کے آگے آئے گا۔اگر عورتوں کو مجلس مشاورت میں رائے دینے کا حق دینا نقصان کا موجب ہوگا تو آنے کی غلطی انہی کے لئے نقصان دہ ہو سکتی ہے اور اگر حق نہ دینا اسلام کے لئے مشکلات پیدا کرنے کا باعث ہوگا تو اس کا خمیازہ بھی انہی کو بھگتنا پڑے گا۔ان تمام امور کو مد نظر رکھ کر رائے دینی چاہئے۔جلد بازی سے نہیں بلکہ ان امور کو سوچ کر رائے دی جائے کہ :- (۱) شریعت کو اس مسئلہ سے دخل ہے یا نہیں؟ (۲) عقل انسانی اس بارے میں کیا کہتی ہے؟ بسا اوقات انسان جس بات کے حق میں ہوتا ہے شریعت کو اُدھر کھینچ کر لے جانے کی کوشش کرتا ہے اور بسا اوقات عقل کے دروازے کو وہاں بند کر دیتا ہے جہاں عقل کے بغیر راہ نمائی نہیں ہو سکتی۔سب کمیٹی کی تجویز یہ ہے کہ عورتوں کو مجلس مشاورت میں حق نمائندگی ملنا چاہئے۔مولوی سید سرور شاہ صاحب نے اس میں یہ اصلاح کی ہے کہ حق کا لفظ تو نہیں ہونا چاہئے مگر ان کو بھی کسی نہ کسی رنگ میں موقع ملنا چاہئے۔جو دوست اس بات کی تائید میں ہوں کہ عورتوں کو حق نمائندگی کسی نہ کسی رنگ میں دیا جائے ، وہ کھڑے ہو جائیں۔“ اس پر ۱۸۴ آراء شمار کی گئیں۔پھر حضور نے فرمایا۔66 د جن کی رائے یہ ہو کہ عورتوں کو مجلس مشاورت میں نمائندگی کا موقع نہیں ملنا چاہیئے و کھڑے ہو جائیں۔“ اس پر ۲۹ آراء گنی گئیں۔اس کے بعد حضور نے فرمایا: - وہ