خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 352

خطابات شوری جلد اوّل ۳۵۲ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء غرض اس موقع پر صرف خلیفہ کے انتخاب کے طریق پر گفتگو کی گئی اور اس کا فیصلہ کیا گیا اور باقی امور کو کسی اور وقت کے لئے اُٹھا رکھا گیا۔پس محض اس لئے کہ میں نے ان امور کے متعلق جن کے بارے میں مشورہ لینا تھا یہ لکھا کہ فلاں فلاں میں تغییر نہ ہوگا ، انہیں طے شدہ دستور العمل نہیں قرار دیا جا سکتا۔یہ دستور العمل اُس وقت قرار پاتا جب اس میں درج شدہ امور مجلس میں پیش ہوتے اور پھر میں ان کو پاس کر دیتا۔رہی یہ بات کہ میں نے دفعہ ۱۸ کو ان امور میں داخل کیوں کیا جن میں تبدیلی نہیں ہونی چاہئے تھی اس کے متعلق زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ میرے نزدیک یہ اہم معاملہ تھا اس سے زیادہ کچھ نہیں ورنہ میں نے کبھی بھی یہ فیصلہ نہیں کیا۔پھر بالکل ممکن ہے کہ جب یہ نمبر لکھے گئے ہوں جن میں تغیر نہ کرنے کا ذکر ہے تو ان میں شانز دہم غلطی سے لکھا گیا ہو۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں اس وقت عورتوں کے حق میں فیصلہ دے رہا ہوں بلکہ میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میرے حافظہ میں یہ بات نہیں آتی کہ کبھی میں نے عورتوں کے انتخاب کے متعلق یہ فیصلہ دیا ہو اور اسے ایسا قرار دیا ہو کہ دوسرے خلیفہ کو بھی اس میں تغیر کرنے سے محروم کر دیا ہو۔پس یہ مسودہ ہے دستور العمل نہیں۔اگر اس وقت میرا حافظ غلطی نہیں کرتا تو یہ نمبر تبدیل نہ ہونے والے نمبروں میں غلطی سے لکھا گیا اور اگر غلطی کرتا ہے تو اُس وقت اگر میں نے غلطی سے ایسا سمجھا تھا تو اب ایسا نہیں سمجھتا۔“۔حضور کی طرف سے اس وضاحت کے بعد بعض ممبران مشاورت نے اس تجویز کے حق میں اور بعض نے مخالفت میں تفصیلاً اپنے خیالات کا اظہار کیا اور قرآن وحدیث سے اپنے اپنے دلائل پیش کئے۔ازاں بعد حضور نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : - اس مقصد کے لئے جو میرے ذہن میں تھا اور جس کے لئے مشورہ سے پہلے کوشش کرنی چاہئے تھی کی گئی ہے مگر اس میں ناکامی ہوئی ہے۔میں حاضرین کو اس میں شامل کرنے کے لئے بلند آواز سے کہتا ہوں کہ عورتوں نے تحریری طور پر یہ مطالبہ کیا تھا کہ مشورہ میں ہمیں بھی رائے دینے کا موقع ملنا چاہئے۔میں نے اس کے متعلق کہا تھا اگر کوئی عورت اس حق اور خواہش کے متعلق جو اسے مشورہ میں شمولیت کے لئے ہے کچھ کہنا چاہتی ہو یا اپنی