خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 348

خطابات شوری جلد اوّل ۳۴۸ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء طرح ڈاکٹر شاہ نواز صاحب کے لئے بھی کہا گیا۔وہی عزیز جس کا میں نے ذکر کیا ہے، اس کے لئے اعلیٰ ملازمت کے لئے نام بھیجنے کی ایک بڑے آدمی نے سفارش کی تھی مگر نام نہ بھیجا گیا۔پوچھا گیا تو کہا گیا اِس کا چہرہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ فوجی کام کے قابل نہیں حالانکہ داڑھی کوئی ایسی نمایاں نہ تھی۔اب سوال یہ ہے کہ یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ایسی تمام ملازمتیں چھوڑ دی جائیں جن میں داڑھی منڈانی پڑتی ہے یا ملازمتوں کی اہمیت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے اور جب تک اس بارے میں سہولت نہ پیدا ہو اس فیصلہ کے نفاذ کو جو داڑھی کے متعلق ہو چکا ہے ان کے لئے ملتوی کر دیا جائے جو ایسی ملازمتیں اختیار کریں۔داڑھی کے جواز یا عدم جواز کا تعلق ہم سے نہیں ہے، نہ مجھ سے نہ کسی اور سے، یہ شریعت کا کام ہے۔ہم سے صرف اس بات کا تعلق ہے کہ جو فیصلہ مشاورت کے مشورہ سے داڑھی منڈوانے والوں کے متعلق ہو چکا ہے اُس کا نفاذ فلاں کے متعلق کیا جائے یا نہ کیا جائے۔پس اس وقت یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ایسی ملازمتوں کو چھوڑ دیں یا ان پر اس فیصلہ کا نفاذ نہ کیا جائے جن کے متعلق اس بارے میں ملازمت کرنے کی صورت میں درشتی اور سختی کی جاتی ہو۔“ اس تجویز کی بابت بعض ممبران کے اظہار خیال کرنے اور رائے شماری کے بعد حضور نے فرمایا : - ”میرے خیال میں ایسے معاملات میں دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ کون سے معاملات کا کس حد تک انسان کے اعمال پر اثر پڑتا ہے۔جیسا کہ بتایا گیا ہے کہ ہمارے ملک میں ایسے قوانین رائج ہیں جو اسلامی شریعت کے مطابق نہیں مگر اُن پر عمل کرنا پڑتا ہے۔حدیث میں آتا ہے سود لینے دینے والا اور شہادت دینے والا سب پر خدا کی لعنت ہویے باوجود اس کے مجسٹریٹ موجود ہیں جو سودی لین دین کے فیصلے کرتے ہیں۔مجسٹریٹ مجبوراً نہیں بنائے جاتے مگر باوجود اس کے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ اس حالت میں کیا کرنا چاہئے تو آپ نے فرمایا ملکی قانون کے مطابق فیصلے کرو۔داڑھی منڈانے والے کے متعلق لعنت کا لفظ نہیں بولا گیا لیکن سُود میں کسی طرح حصہ لینے والے کے لئے لعنت کا لفظ آیا ہے۔شراب نا جائز ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اس محکمہ میں ملازمت کرنے