خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 347
خطابات شوریٰ جلد اوّل وو ۳۴۷ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء پیشتر اس کے کہ اس کے متعلق گفتگو ہو میں یہ بیان کر دینا چاہتا ہوں کہ سب کمیٹی کو بعض غلطیاں لگ گئی ہیں۔سمجھا یہ گیا تھا کہ سب کمیٹی چھلی تجاویز سے وہی نتیجہ نکالے گی جو نکلتا ہے۔پچھلی مجلس مشاورت میں کہا گیا تھا کہ داڑھی رکھنا اسلامی شعار ہے اس لئے ایسا انتظام ہونا چاہئے کہ انجمنوں کے عہدے داڑھی منڈوں کو نہ دیئے جائیں۔اس میں یہ اشارہ تھا کہ ایسے امور جو شعار اسلام ہوں اُن کا احترام کیا جائے اور انہیں قائم کیا جائے۔مگر سوال یہ ہے کہ جن صورتوں میں کوئی مجبوری پیش آئے یعنی اپنی خواہش سے نہیں بلکہ کسی مجبوری سے ایسا کیا جائے تو ایسے لوگوں سے کیا سلوک ہونا چاہئے یہی فیصلہ ان پر عائد ہویا نہیں؟ باقی یہ کہ ان کو اجازت دی جائے کہ ایسا کر لیں، اس کے لئے تو کوئی موقع اور محل نہیں۔جس بات سے شریعت نے منع کیا ہے اس کی اجازت دینے کا کیا مطلب؟ ہاں یہ سوال قابلِ غور ہو سکتا ہے کہ ایسے شخص پر تعزیر جاری کی جائے یا نہ کی جائے۔مضطر کے لئے جائز ہے کہ سور کا گوشت کھائے لیکن اپنے اضطرار کا فیصلہ وہ خود کرے گا۔مجلس شوری نے یہ مشورہ نہ دیا تھا جو لوگ داڑھی منڈا ئیں اُن سے تعلق نہ رکھا جائے بلکہ صرف یہ دیا تھا کہ ایسے لوگوں کو عہدے نہ دیئے جائیں مگر اس سے اشارہ اس طرف تھا کہ اس شعار کی طرف زیادہ توجہ کی جائے۔اب بات یہ ہوئی کہ میرے ایک عزیز میرے پاس آئے جنہوں نے کنگ کمیشن کے لئے نام پیش کیا تھا اور داڑھی منڈوائی ہوئی تھی۔میں نے اُن سے قطع تعلق کر لیا اِس لئے کہ گو جماعت کا یہ مشورہ نہیں مگر میں اپنے عزیزوں سے زیادہ امید رکھتا ہوں کہ شرعی شعار کی پابندی کریں۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے ان کے متعلق بیان کیا کہ اس میں ان کی غلطی نہیں انہیں فلاں فلاں شخص نے مشورہ دیا تھا اور کچھ فوجی مشکلات بھی ہیں ان کے متعلق غور کر لیا جائے۔اسی سلسلہ میں اس عزیز کی چٹھی بھی آ گئی کہ اگر آپ کہیں تو ملازمت سے استعفیٰ دے دوں، ورنہ اس ملازمت کے لئے داڑھی منڈانا ضروری ہے۔جب اس بات پر اس نے آمادگی ظاہر کی تو میں نے کہا اب ناراضگی نہیں آپ مل سکتے ہیں۔مگر میں اس معاملہ کو مجلس مشاورت میں پیش کروں گا مجھے اس کے متعلق ریگولیشن تو یاد نہیں مگر بدرالدین صاحب جب کنگ کمیشن کے لئے گئے تو جو نوٹ ان کے متعلق لکھا گیا اُس میں یہی بات بیان کی گئی تھی کہ انہوں نے داڑھی رکھی ہوئی ہے۔اسی