خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 349
خطابات شوری جلد اوّل ۳۴۹ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے اجازت دے دی۔اسی طرح بنکوں کے سُود کے کام کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کرو۔تو ایسے کام جن کا جاری کرنا ہمارے اختیار میں نہیں ہے ان میں مجبوری ہے یہ نہیں کہ اس فوج کو چھوڑ کر جہاں داڑھی منڈانا ضروری ہے دوسری میں داخل ہو جائیں۔پس جن کاموں کا نظام بنانا ہمارے اختیار میں ہو اور وہ جائز نہ ہوں اُن میں حصہ لینا جائز نہیں لیکن جن کا نظام ہمارے اختیار میں نہیں ہے اُن میں حصہ لینا ناروا نہیں ہے بلکہ ان میں اجازت ہے۔ایسے محکموں میں جہاں ثابت ہو جائے کہ داڑھی کی وجہ سے ملازمتوں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے جیسے فوجی ملازمتیں اور کمیشن کے عہدے وہاں کے لئے یہ تجویز کی جائے کہ حالات پیش کر کے اجازت حاصل کی جائے۔اس قسم کی مشکلات کو دور کرنے کے لئے زور دیا جائے جتنا دیا جا سکے مگر جب تک اس میں کامیابی نہ ہو کوئی انتظام ہونا ضروری ہے۔ہماری ایک ٹیریٹوریل کمپنی ہے کوشش ہونی چاہئے کہ کم از کم ایک اور کمپنی بن جائے اور میری تو خواہش ہے کہ اپنے لڑکے کو بھی اس میں بھرتی کرا دوں۔“ ” اب ایسا وقت آ رہا ہے کہ جو لوگ فوج کا کام کرسکیں گے وہی کامیاب ہوں گے۔اب اس قسم کا فتویٰ کام نہ آئے گا جیسا کہ بخارا کے مولویوں نے دیا تھا کہ کافروں سے صلح نہ کرنی چاہئے بلکہ جنگ کرنی چاہئے لیکن جب جنگ شروع ہوئی تو قرآن کی آیتیں پڑھ کر پھونکنی شروع کر دیں۔دشمن کی طرف سے جب توپ کے گولے پھٹنے لگے تو ساحر ساحر کہتے بھاگ گئے۔پس قوم کی ترقی کے لئے ہر قسم کی ترقیات کی ضرورت ہے۔اگر مجھے مجلس شوری کے مشورہ کا احترام نہ ہوتا تو میں اس عزیز کو معذور قرار دے دیتا مگر میں نے اس معاملہ کو مجلس مشاورت میں رکھ دیا اور اب کثرتِ آراء نے جو تجویز پیش کی ہے اسے منظور کرتا ہوں۔اس کے لئے اعلان ہو جائے گا کہ فلاں فلاں صیغہ میں جولوگ ملازم ہوں ان کے لئے یہ معذوری ہے۔نام بنام اشخاص کو اعلان کی ضرورت نہ ہوگی۔“ 66 حضرت شیخ یعقوب علی صاحب کے اس بیان کہ کیا قاعدہ نمبر ۱۸ منظور شدہ مشاورت قاعدہ کی رو سے حضور کو بھی حق نہیں کہ قاعدہ نمبر ۱۸ ۱۹۲۴ء میں تبدیلی ہوسکتی ہے؟ کو بدلیں۔‘ کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے حضور نے فرمایا : -