خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 341
خطابات شوری جلد اوّل ۳۴۱ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء میں اس قدر اضافہ اور ہونا چاہئے۔اور اگر کام کم ہو تو اس کے متعلق بھی رپورٹ کی جائے اور ناظر کے فرائض مقرر کئے جائیں۔۲۔یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا نظارت اُن قواعد کی جو پاس کرتی ہے اور اُن ہدایات کی جو اُسے دی جاتی ہیں پابندی کرتی اور کراتی ہے یا نہیں۔بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ریاستوں میں جو قانون پاس ہوتا ہے اُس پر عمل نہیں کیا جاتا ، اس سے قانون توڑنے کی سپرٹ پیدا ہوتی ہے۔جب کارکن یہ دیکھیں کہ نظارت خود خلیفہ کی ہدایات پر عمل نہیں کرتی تو وہ بھی اس کے قوانین کی پرواہ نہ کریں گے۔۳۔تیسرا کام اس کمیٹی کا یہ ہو گا کہ وہ رپورٹ کرے کہ کیا مجلس شوریٰ میں جو فیصلے ہوتے ہیں اُنہیں نظارت جاری کرنے کی کوشش کرتی ہے یا نہیں۔۴۔یہ کہ کارکن اپنے اختیارات ایسے طور پر تو استعمال نہیں کرتے کہ لوگوں کے حقوق ضائع ہوں۔۵۔اخراجات میں کسی قسم کی زیادتی سے تو کام نہیں لیا جاتا۔یہ بات دفتروں کا معائنہ کر کے دیکھیں کہ کس صیغہ میں اسراف سے کام لیا جاتا ہے اور کس قدر۔یہ پانچ امور ہیں جن کے متعلق امید ہے دوست تکلیف اُٹھا کر اور اپنے کام کا حرج کر کے بھی ان کے متعلق تحقیقات کریں گے اور اس بارے میں رپورٹ مرتب کریں گے۔اب جو سوال اس وقت پیش ہے۔اس کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ چندہ خاص اس بارے میں فیصلہ ہوا تھا اور اعلان کیا گیا تھا کہ چندہ خاص اُس وقت جاری رکھا جائے گا جب تک چندہ عام اخراجات کے لئے کافی نہ ہو۔گو یہ کہا گیا تھا کہ جتنی کم ضرورت ہوتی جائے اتنی چندہ خاص میں بھی کمی کی جائے مگر باوجود اس کے اس سال چندہ خاص اُڑا دیا گیا۔میں نے یہ بھی کہا تھا بجٹ میں جو تغیرات ہوں اُن سے مجھے اطلاع دی جائے مگر فیصلہ کر کے مجھے بھیج دیا گیا۔اس وقت مجھے اتنی فرصت نہ تھی کہ سارے کو دیکھ سکتا۔انہیں اتنے اہم تغیر کے لئے ضروری تھا کہ مجھ سے اجازت حاصل کر لیتے۔اب میاں معراج الدین صاحب کے بیان سے معلوم ہوا کہ چندہ خاص اُڑا دیا گیا ہے۔“ چند دوستوں کی آراء کے بعد حضور نے فرمایا :-